شرح سود میں کمی خوش آئند فیصلہ

نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا گیا۔ شرح سود 0.5 فیصد کم ہو کر 8 سال بعد 9.5 سے 9 فیصد پر آئی گئی ہے۔ سٹیٹ بنک کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد مثبت تبدیلی آئی ہے۔
سابقہ حکومت کے دور میں شرح سود ڈبل ہندسوں میں تھی اور کافی عرصہ برقرار رہی جس کے باعث تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کئی چھوٹے تاجر تو مہنگائی ہونے کے بعد اپنا کاروبار بھی نہ چلا سکے لیکن پھر سابق حکومت اپنے آخری سال میں بڑی محنت سے شرح سود کو سنگل ہندسے میں لے آئی اور تاجر برادری نے سُکھ کا سانس لیا اور موجودہ حکومت کے آتے ہی شرح سود میں 0.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو انتہائی خوش آئند ہے، اس سے کاروباری برادری کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، مزدور کو روزگار ملے گا اور خوشحالی آئے گی لیکن حکومت کو چاہئے کہ شرح سود میں مزید کمی کرنے کی کوشش کی جائے۔ آٹھ برس کے بعد شرح سود 9 فیصد پر آئی ہے گورنر سٹیٹ بنک مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود کو کم کیا۔ اگر ایسے مزید اقدامات کئے جائیں تو کاروبار میں بہتری آئے گی اور انڈسٹری فروغ پائے گی، ہمارے تاجر بھی عالمی منڈیوں میں اپنا سامان بھیج سکیں گے۔