دہشت گردی کا خاتمہ نئے وزیر داخلہ کی صلاحیتوں کا امتحان

 وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ افراد کے بارے میں وزارت داخلہ کی کمیٹی کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہوں۔کراچی کی دہشت گردی میں ایک نہیںکئی گروپ ملوث ہیں، سب کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔وہ ایم کیو ایم کے ارکان صلاح الدین سفیان یوسف‘ سید وسیم اور نبیل گبول کے کراچی کے بارے میں توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب دے رہے تھے۔ چودھری نثار نے کہا کہ کراچی کے عوام کے دکھ کا احساس ہے کراچی کے ارکان کے دکھ کا بھی احساس ہے ان کا شہر جل رہا ہے امن و امان کا مسئلہ ہے اگرچہ لاءاینڈ آرڈر صوبائی مسئلہ ہے وفاقی حکومت خفیہ معلومات فراہم کرنے اور صوبائی حکومت کی مدد کی درخواست پر سرگرم ہو سکتی ہے۔ صوبائی حکومت اور اسمبلی کراچی میں امن و امان کی ذمہ داری مجھے سونپیں تو ادا کرنے کیلئے تیار ہوں۔ایم کیو ایم کو بھی اس میں میری مدد کرنا ہو گی۔ ایم کیو ایم کو بھی کراچی میں سیاست سے بالاتر ہو کر خون خرابے کے خلاف کردار ادا کرنا ہو گا۔
 پاکستان پیپلزپارٹی کو بد امنی، لاقانونیت، شورش اور دہشت گردی جس طرح ان کے پیشروﺅں سے ” ورثے“ میں ملی تھی،اس نے اس میں مزید اضافہ کرکے اپنے جاں نشینوں کیلئے چھوڑ دیا۔ آج پورا ملک بد امنی اور دہشت گردی کی آگ میں بُری طرح جل رہا ہے خصوصی طورپر کراچی،بلوچستان اور فاٹا کے علاقے توالاﺅ بن چکے ہیں۔کراچی میں دہشت گردی کا سلسلہ عرصہ سے جاری ہے۔ جس کے باعث روشنیوں کے شہر پر تاریکیاں چھا گئیں۔ حالیہ دنوں دہشت گردی کے مسلسل اندوہناک واقعات ہورہے ہیں جن میںبعض اوقات درجنوں افراد کو خاک اور خون میں ملا دیاجاتا ہے۔گزشتہ روز کراچی جیل پر حملہ کردیا گیا،ٹارگٹ کلنگ میں 5افراد مارے گئے۔قبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی اے ساجد قریشی کو بیٹے سمیت قتل کردیا گیا تھا اس روز فائرنگ اور تشدد کے واقعات میںمزید21افراد جاں بحق ہوگئے اس پر متحدہ نے تین روزہ سوگ بھی منایا۔کراچی کی دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں کچھ گروپوںکے سیاسی مفادات رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ان گروپوں کی نشاندہی سپریم کورٹ کراچی بدامنی کیس میں کر چکی ہے۔سابق حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایات کو دیگر کئی فیصلوں کی طرح درخور اعتنا نہیں سمجھا۔اس لئے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتے چلے گئے۔
گزشتہ دور میں سندھ اور کراچی کی سیاسی نمائندگی کرنیوالی پاکستان پیپلز پارٹی،متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کے باوجودموقع بموقع ایک دوسرے پر کراچی میں بھتہ خوری اور قتل و غارت گردی کا الزام لگاتی تھیں، انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی کی قیادت تو گھروں سے ہی نہیں نکلی،ایم کیو ایم اور اے این پی کے لوگوں کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔سیاسی جماعتوں کے جنگجو ونگز سے انکار ممکن نہیں تاہم ان کو بھی نشانہ بنانے والے گروہ بھی کراچی میں موجود ہیں جو ہر واردات کے بعد اس کی برملا ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔یہ دہشت گرد صرف کراچی میں نہیں پورے ملک میں خصوصی طورپر بلوچستان اور فاٹا میں پھیلے ہوئے ہیں۔گزشتہ ہفتے زیارت میں قائداعظم ریذیڈنسی کو راکٹ حملوں میں اڑا کے رکھ دیا گیا۔اسی روز کوئٹہ میں ویمن یونیورسٹی کی بس اور بولان میڈیکل کمپلیکس پر بم اور گولیاں برسا کر24طالبات مریضوں ،ڈاکٹروں،انتظامی و سکیورٹی افسران اور اہلکاروں کی جان لے لی۔ پشاور اور فاٹا میں ایسے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں گزشتہ ہفتے مردان، پی ٹی آئی کے ایم پی اے کو ایک جنازے میں شرکت کے موقع پر 34افراد سمیت خودکش حملے میں ہلاک کردیا گیا چند ہفتوں میں یہ تحریک انصاف کے دوسرے ایم پی اے کی ہلاکت ہے۔ عمران خان ابھی تک اپنی پارٹی کی حکومت کے بعد مردان تک نہیں گئے۔گزشتہ روز دہشت گردوں نے گلگت میں نانگا پربت کے بیس کیمپ میں رات گئے 11غیر ملکی سیاحوں کو لائن میں کھڑا کرکے گولیوں سے بھون ڈالا۔ ان میں سے تین کاتعلق چین ،5کا یوکرائن سے ایک روسی ہے۔اس بہیمانہ واقعہ کے بعد وزیر داخلہ نے گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بجا طورپرمعطل کردیا ۔اس سانحہ کا المناک پہلو یہ بھی ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے گروہ کی طرح ،یہ دہشت گرد بھی فوجی وردی میں تھے عموماً وردی والوں کی سکیورٹی چیک پوسٹوں پر تلاشی نہیں لی جاتی۔ وزیر داخلہ نے اب احکام جاری کردئیے کہ کوئی فوجی بغیر چیکنگ کے ریڈ زون میں داخل نہیں ہوسکتا۔اس حوالے سے عسکری حکام فوج کے لئے باقاعدہ ایک آرڈر جاری کردیں تو مناسب رہے گا۔ دہشت گرد جس بھی روپ میں ہوں انکے کوئی بھی مقاصد ہوں وہ ناقابل معافی ہیں۔ان سے کسی رو رعایت اور مذاکرات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ان کے ساتھ بے رحمی اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو صرف دہشت گردی کو ہی نکیل نہیں ڈالنی اپنے ادارے کو کالی بھیڑوں سے بھی پاک کرنا ہے۔انہوں نے وزارت داخلہ کی کمیٹی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تین سال میں صرف تین ماورائے عدالت قتل ہوئے۔کراچی میں ایک بلا امتیاز سخت اپریشن کی ضرورت ہے۔ایسے اپریشن کم از کم دو مرتبہ ہوئے اور کراچی کا امن بحال ہوگیا تھا۔وزیر داخلہ سے منسوب اس بیان، سندھ حکومت کو امن کی بحالی کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہیں پر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا تھا کہ ہم خود امن قائم کرناجانتے ہیں۔ایسا ہے تو گزشتہ پانچ سال میں کراچی بد امنی کی آماجگاہ کیوں بنادیا؟
ملک میں امن و امان کا قیام وزارت داخلہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اخلاقی، اصولی اور قانونی طورپر سندھ حکومت سے کہا ہے کہ وہ کراچی میں امن و امان کی ذمہ داری انہیں سونپیں تو ادا کرنے کو تیار ہوں۔ سندھ حکومت کی کارکردگی سب نے ملاحظہ کرلی ہے۔اس سے کراچی میں امن کی بحالی کی توقع عبث ہے۔ وزیر داخلہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک سے دہشت گردی بد امنی اور لاقانونیت کا خاتمہ جس طرح بھی ممکن سمجھتے ہیں کرنے کی کوشش کریں۔ لوگ ان کے پیشرو کو بُرے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔چودھری نثار کا سیاست میں ایک معتبر نام ہے۔ وزارت داخلہ کا قلمدان ان کی صلاحیتوں کی آزمائش ہے۔ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کسی دباﺅ کو خاطر میں نہ لائے تو اس آزمائش میں سرخرو ہوکر اپنی سیاسی ساکھ کو مزید مضبوط بنالیں گے۔قوم اُن کی اس جہاد میں جیت کیلئے دعاگو ہے