بھارتی وزیراعظم کا دورہ مقبوضہ کشمیر

بھارتی وزیراعظم کے دورہ کشمیر سے قبل پکڑ دھکڑ، علی گیلانی اور میر واعظ گھروں میں نظربند، سرینگر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ لال چوک میں تلاشیاں۔ منموہن اور سونیا گاندھی کل کشمیر آئیں گے۔
مقبوضہ ریاست کشمیر میں بھارت کے وزیراعظم کے دورہ سے قبل سیاسی اور حریت کانفرنس کے رہنماﺅں سمیت عوام کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا اور قابض بھارتی افواج نے سرینگر شہر میں گھروں اور راہگیروں کی تلاشیاں شروع کر دی ہیں۔ ان حالات میں بھارتی وزیراعظم دو ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کر کے دراصل کشمیروں کو خوش کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھارت سے علیحدگی کی راہ چھوڑ دیں مگر ایسا ہونا اب ممکن نہیں رہا اور کشمیری کسی لالچ میں آنے والے نہیں ۔وہ کشمیر کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم پر کاربند رہیں۔ اگر بھارتی حکومت حقیقت میں چاہتی ہے کہ کشمیر میں امن ترقی اور خوشحالی کی راہ کھلے تو اسے وہاں اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کے لالچ کی بجائے کشمیریوں کے اس مطالبے کو تسلیم کرنا ہوگاکہ وہاں اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرا دی جائے اس سے نہ صرف مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا بلکہ پاکستان اوربھارت سمیت پورے خطہ میں امن و خوشحالی کی راہ کھل جائے گی۔