ضمنی انتخابات کے نتائج حکمران مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کےلئے ایک سبق ........ اب عوام کارکردگی دیکھ کر ہی اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں

ایڈیٹر  |  اداریہ

ملک بھر میں ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات میں حکمران مسلم لیگ(ن) نے قومی اسمبلی کی خالی 16 نشستوں میں سے 5 اور صوبائی اسمبلیوں کی خالی 26 میں سے 13 نشستیں حاصل کر کے سبقت حاصل کر لی جبکہ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی تین، پنجاب اسمبلی کی دو اور سندھ اسمبلی کی ایک نشست حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی اور عام انتخابات میں تیسرے نمبر پر آنے والی تحریک انصاف ضمنی انتخابات میں بھی قومی اسمبلی کی دو، پنجاب اسمبلی کی دو اور خیبر پی اسمبلی کی ایک نشست حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہی ۔ ان انتخابات میں ایم کیو ایم نے سندھ میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے اپنی کامیابی کا گراف برقرار رکھا جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کوصرف خیبر پی کے اسمبلی کی ایک نشست مل سکی اور جماعت اسلامی کا ضمنی انتخابات میں مکمل صفایا ہو گیا۔ یہ پہلے انتخابات ہیں جن میں کسی پارٹی یا اس کے کسی امیدوار نے دھاندلی کاالزام عائد نہیں کیا ،اپنی شکست کو بھی خوشدلی سے قبول کیا اور جیتنے والے امیدواروں کو مبارکبادیں بھی دیں تاہم کامیاب ہونے والے امیدواروںکے حامیوں کی جانب سے خوشی کے اظہار کے روایتی کلچر کے مطابق زبردست فائرنگ بھی کی گئی جس میں پشاور سے حلقہ این اے ون پر اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور کی کامیابی کا باقاعدہ جشن منایا گیا اور زبردست فائرنگ کی گئی جس سے غلام احمد بلور کی بیٹی سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ الیکشن کمشن کی درخواست پر ضمنی انتخابات میں فوج کے دستے پولنگ بوتھوں کے اندر بھی تعینات کئے گئے تھے جس کے باعث انتخابی دھاندلیوں اور ہنگامہ آرائی کے واقعات بہت کم دیکھنے میں آئے۔ قائمقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین جیلانی نے خود بھی متعدد پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا اور پولنگ کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے موقع پر احکام بھی جاری کئے، اس طرح پولنگ کے انتظامات کے حوالے سے الیکشن کمشن کی جانب سے جو خامیاں عام انتخابات میں نظر آئی تھیں، ضمنی انتخابات میں بہتر انتظامات کے ذریعے ان کا ازالہ کر دیا گیا۔
عام طور پر تصور یہی کیا جاتا ہے کہ ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کے مقابلہ میں اپوزیشن جماعتوں کے امیدواروں کا جیتنا مشکل ہوتا ہے، اس حوالے سے ماضی کے انتخابات میں حکمران جماعتوں پر انتظامی مشینری کے ذریعے اثر انداز ہونے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں تاہم موجودہ ضمنی انتخابات اس حوالے سے یادگار رہیں گے کہ ان میں حکمران مسلم لیگ (ن) کو ڈیرہ غازی خان میں میاں شہباز شریف، سردار ذوالفقار کھوسہ کی چھوڑی ہوئی دو نشستوں کے علاوہ اوکاڑہ کی خالی اپنی صوبائی نشست پر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مظفر گڑھ میں مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو اپنی چھوڑی گئی نشست پر غلام ربانی کھر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو پشاور اور اپنے آبائی حلقہ میانوالی میں اپنی چھوڑی گئی قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر بدترین شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی جو انتخابی سیاست میں بہت بڑا اپ سیٹ تصور کیا جا رہا ہے جبکہ پشاور کی نشست پر حاجی غلام احمد بلور کی کامیابی نے عام انتخابات میں بُری طرح مسترد ہونے والی اے این پی کے تنِ مُردہ میں بھی نئی روح ڈال دی ہے اور پیپلز پارٹی کو بھی ضمنی انتخابات میں قومی اور پنجاب اسمبلی کی مزید دو دو نشستیں حاصل ہونے سے خاصی سیاسی تقویت حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کو اپنی خالی کردہ قومی اسمبلی کی ایک اور سندھ اسمبلی کی تین نشستوں پر کامیابی حاصل ہونے سے اس پر عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا ازالہ ہُوا ہے۔ اس تناظر میں ضمنی انتخابات کے نتائج حکومتی اور اپوزیشن تمام جماعتوں کے قائدین کیلئے اپنی اپنی غلطیوں کا احساس دلانے پر بھی منتج ہوئے ہیں اور اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ ووٹرز ہی حکومتی کارکردگی کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنے والے بہترین جج ہیںجن کے اعتماد پر پورا اُتر کر ہی حکمران جماعتیں آئندہ انتخابات میں اپنی گنجائش نکال سکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں عمران خان کو خیبر پی کے اور پنجاب میں اپنی ہی چھوڑی قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر جس بُری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا وہ اس کا بین ثبوت ہے کہ ان حلقوں کے ووٹروں نے عمران خان کے بلند بانگ دعوﺅں اور خیبر پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ہی انہیں ضمنی انتخابات میں سبق سکھایا ہے جبکہ ان کی آبائی سیٹ پر بھی تحریک انصاف کے امیدوار کا کامیاب نہ ہونا عمران خان کے لئے لمحہ¿ فکریہ ہے۔ اسی طرح حکمران جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو ڈیرہ غازی خان میں وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور سردار ذوالفقار کھوسہ کی اپنی ہی چھوڑی گئی نشستوں پر جس ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اس پرمسلم لیگ (ن) کی قیادت کو سنجیدگی سے غور کر کے آئندہ کا انتخابی لائحہ¿ عمل طے کرنا ہو گا ورنہ آئندہ انتخابات میں ان کیلئے کسی بڑے اپ سیٹ کے خدشات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
ضمنی انتخابات میں کم ٹرن آ¶ٹ بھی کسی نہ کسی اپ سیٹ کا باعث بنتا ہے چنانچہ موجودہ ضمنی انتخابات میں بھی ووٹروں کی اکثریت کے گھروں میں بیٹھے رہنے کے باعث جہاں ٹرن آﺅٹ کم رہا وہیں امیدواروں کو بھی اپنی کامیابی کے لئے عام انتخابات سے زیادہ تگ و دو کرنا پڑی۔ اس سلسلہ میں دلچسپ صورتحال پشاور کے حلقہ این اے ون کے ضمنی انتخاب کی سامنے آئی ہے جہاں عام انتخابات میں حاجی غلام احمد بلور نے عمران خان کے 95 ہزار ووٹوں کے مقابلہ میں 24 ہزار کے قریب ووٹ حاصل کر کے اپنی یہ آبائی نشست کھو دی تھی جبکہ اب ضمنی انتخابات میں بھی وہ پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ (ن) کی درپردہ اور کھلے عام حمایت حاصل ہونے کے باوجود وہ ساڑھے 37 ہزار کے قریب ووٹ حاصل کر پائے مگر عام انتخابات سے دس ہزار زیادہ حاصل ہونے والے ان کے ووٹ ان کی کامیابی کا باعث بن گئے، اس کے برعکس عام انتخابات میں متذکرہ نشست پر تحریک انصاف کو جو 95 ہزار ووٹ حاصل ہوئے تھے ضمنی انتخابات میں پی ٹی اے کا امیدوار گل بادشاہ اس سے آدھے ووٹ بھی حاصل نہ کر سکا جنہیں 30 ہزار کے قریب ووٹ ملے۔ اس سے بادی النظر میں یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے اپنے ووٹ بنک میں بھی دراڑیں پڑی ہیں تاہم عمران خان نے اپنی نشست ہارنے کے باوجود کامیاب ہونے والے امیدوار حاجی غلام احمد بلور کو مبارکباد دے کر سیاسی رواداری کی اچھی مثال قائم کی ہے اگر وہ پشاور جا کر ان کے گلے میں ہار بھی ڈال آتے تو اس سے ان کا امیج مزید بہتر ہوتا۔ جماعت اسلامی نے اگرچہ کراچی میں ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے امیدوار بدستور انتخابی میدان میں موجود تھے جنہیں محض چند سو ووٹ ہی حاصل ہو پائے۔ اس صورتحال میں جماعت اسلامی کی قیادت کو سوچنا ہو گا کہ اسے انتخابی کامیابی ہم خیال جماعتوں کے انتخابی اتحاد میں شامل ہو کر ہی حاصل ہو سکتی ہے جس سے جماعت اسلامی نے موجودہ انتخابات میں گریز کیا اور اس کا خمیازہ بُھگت لیا۔
موجودہ ضمنی انتخابات جو بلاشبہ منی عام انتخابات کی حیثیت رکھتے تھے، حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کو فکر و عمل کے کئی راستے دکھا گئے ہیں اگر انہوں نے ضمنی انتخابات میں حاصل ہونے والے اپنی ناکامیوں کے تجربات سے سبق نہ سیکھا تو روایتی سیاست میں انہیں آئندہ کیلئے زیادہ پریشانی اٹھانا پڑ سکتی ہے۔