شدت پسندہتھیار ڈالیں یا پھر اُن کیخلاف ایکشن لیاجائے

ایڈیٹر  |  اداریہ

 وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات مشروط ہوںگے۔ہتھیارڈالنے والوںکے ساتھ تومذاکرات ہوںگے جبکہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو طاقت سے کچلنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہوں نے بھی شرکت کی۔دریں اثناءکالعدم تحریک طالبان پنجاب نے وفاقی حکومت کی طرف سے پھانسی کی سزاﺅں پر عملدرآمد روکنے اور وزیراعظم نواز شریف کی 19اگست کو اپنے خطاب میں مذاکرات کی دوبارہ پیشکش کا خیر مقدم کیا۔ مذاکرات کیلئے فوج کا شروع سے یہی موقف ہے کہ شدت پسند پہلے ہتھیار ڈال کر ریاست کی رٹ کو تسلیم کریں جس کا عسکریت پسندوں کی طرف سے کبھی مثبت جواب نہیں آیا۔ عسکری اورسیاسی قیادت کے موقف میں اس حوالے سے اگر کوئی تضاد تھا تو وہ اب دور ہوگیا ہے۔ تحریک طالبان ایک طرف نوازشریف کی پیشکش کا خیر مقدم کر رہی ہے تو دوسری طرف اسکی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ گزشتہ روز کراچی میں رینجر ز ہیڈ کوارٹر کے سامنے فوجی ٹرک پر حملے میں 2افراد جاں بحق اوررینجرز اہلکاروں سمیت 10زخمی ہوگئے۔ اس حملہ کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔ اس سے شدت پسندوں کی طرف سے مذاکرات کیلئے غیر سنجیدگی کا اندازہ کیاجاسکتا ہے۔ نواز حکومت کی طرف سے اگر کسی دباﺅ میں آکر پھانسیوں کی سزاﺅں پر عمل روکا گیا ہے تو یہ حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا ایسی کمزور حکومت ہتھیار اٹھانے والوں کو سختی سے کچلنے کے فیصلے پر عمل کراسکتی ہے ؟ دہشت گردمذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھی حکومتِ پاکستان اور عسکری اداروں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دفاعی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ایسے عناصر کیخلاف کاررائی کی تیاری کی جائے۔