خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے والی پنچائتوں کیخلاف کارروائی کی جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ

 عام انتخابات کی طرح ضمنی الیکشن میں بھی کئی حلقوں میں خواتین ووٹ کے حق سے محروم رہیں۔ الیکشن کمشن نے بروقت نوٹس لیکر ان حلقوں کے نتائج روک دئیے ہیں۔ خواتین ہمارے معاشرے کا جزولاینفک ہیں۔ انہیں معاشرے میں تمام حقوق میسر ہیں لیکن الیکشن میں انکی رائے نہ لینا کہاںکا انصاف ہے۔ ہمارے ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوںمیں خواتین کے کوٹے مقرر ہیں۔ تمام سیاستدان اپنی پارٹیوں کی طرف سے خواتین کو مخصوص نشستوں پر ممبر تو نامزد کرتے ہیں لیکن انکی جماعت کے ہی رہنما خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکتے ہیں۔ عام انتخابات میں تو خیبر پی کے میں بعض جماعتوں کے رہنماﺅں کے دستخطوں سے شائع پمفلٹ بھی سامنے آئے تھے جن میںاکثر جماعتوں کے رہنماﺅں نے معاہدے پردستخط کرکے خواتین کو انکے ووٹ کے حق سے محروم رکھا تھا۔ اب پھر لکی مروت اور نوشہرہ میں خواتین کوووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں پنچائت سسٹم عدالتی سسٹم کے سامنے کھڑا ہوتا جارہا ہے۔ پنچائتیں خود ہی سزا سناتی ہیں اور پھر اپنے کارندوں سے سزاﺅں پر عمل بھی کرواتی ہیں۔ حکومت کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔اس سے معاشرے میں تصادم کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ نے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر فی الفور ایکشن لیکر جرگہ کے عمائدین کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اوررزلٹ بھی روک دئیے ہیں۔ پنجاب میں بھی حافظ آباد اور پھالیہ کے نزدیک چک شہباز میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ حکومت کو اس کا سختی سے نوٹس لیناچاہئے اور خواتین کے کردار کو معاشرے میں فعال بنانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ آئندہ کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہوسکے۔