بھارت کو منہ توڑ جوا ب دینے کی ضرورت

ایڈیٹر  |  اداریہ

 بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر د و ہفتوں سے اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز راولا کوٹ نکیال اور تتہ پانی سیکٹرز میں بلا اشتعال فائرنگ میں دو نوجوان شہید اور 2جوانوں سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے۔ ایک رپورٹ میں درہ شیر خان میں بھی دو جوانوں کی شہادت کی خبر دی گئی ہے۔ دو روز قبل ایل او سی پر بھارتی فوج کی جارحیت سے ایک کیپٹن شہید اور سپاہی زخمی ہوگیا تھا۔ ان واقعات پر پاکستان کی طرف سے سفارتی سطح پر شدید ردّعمل کا اظہار کیا گیا اور قومی اسمبلی سے متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں بھی ان واقعات کی شدیدمذمت کی گئی ساتھ ہی بھارت کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں جاری رکھنے کا اعادہ بھی کیا گیا۔ بیانات اور قرار دادوں کی حد تک مذمت سے دشمن کی صحت پر کوئی اثر نہیں ہونیوالا۔ پندرہ دن سے جاری لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جارحیت، بھارتی سیاستدانوں میڈیا اور آرمی چیف بکرم سنگھ کی پاکستان کو کھلی دھمکیوں کا جواب قرار دادیں اور بیانات نہیں ہوسکتے اور ایسے ماحول میں بھارت سے مذاکرات کی خواہش پر پاکستانی حکمران اب بھی قائم ہیں۔پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن دشمن کی جارحیت کو آخر کہاں تک برداشت کیاجاسکتا ہے؟ ہماری طرف سے جارحیت کے جواب میں خاموشی سے دشمن کا حوصلہ بڑھ رہا ہے۔اس کے نتیجے میں جنگ چھڑتی ہے تو ذمہ دار بھارت ہوگا اور اسے یہ ذہن میں رکھناچاہئے کہ Deterrance کی بھی ایک حدمقرر ہے ،ہم نے اپنے دفاعی ہتھیار شوکیس میں سجانے کیلئے نہیں رکھے ہوئے۔