غیرت کے نام پر قتل ناقابل معافی جرم

ایڈیٹر  |  اداریہ
غیرت کے نام پر قتل ناقابل معافی جرم

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے صغریٰ امام کے پیش کردہ غیرت کے نام پر قتل کے بل سمیت موٹر وہیکل ترمیمی بل 2012ء کی متفقہ طور پر منظوری دیدی۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ حراست میں موت واقع ہونے یا کسی خاتون کی عصمت دری پر عمر قید اور 30 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہو گا۔ تشدد کرنے کے جرم میں پانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ کیا جائیگا۔
غیرت کے نام پر قتل، عصمت دری، قرآن کیساتھ شادی کم سن بچیوں کی شادی سمیت متعدد جرائم کے بارے قوانین موجود ہیں لیکن قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث وہ جزو معطل کی شکل اختیار کر چکے ہیں جس وجہ سے جرائم بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں عدالتی نظام میں اس قدر پیچیدگیاں ہیں کہ دادا مقدمہ دائر کرے تو پوتے کو جا کر فیصلہ ملتا ہے۔ تاریخ پر تاریخ ڈال کر کیس اس قدر لٹکا دیا جاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں انصاف ملنا ناممکن ہے۔اس سلسلے میں موجودہ بل میں کہا گیا ہے کہ تشدد کی شکایت کے مسئلہ کو تین ہفتوں کے اندر مکمل کیا جائیگا۔ سزا کیخلاف اپیل متعلقہ ہائی کورٹ میں دس روز کے اندر کرنی ہو گی اور اس کا 30 دن میں فیصلہ سنایا جائیگا۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے قوانین تو بنا لئے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی کوشش کی جائے ان قوانین کو مشتہر کیا جائے تاکہ تمام لوگ اس سے آگاہ ہو سکیں کیونکہ قوانین تو پہلے بھی موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت دیگر جرائم کی بیخ کنی کیلئے بھی قوانین پر عمل یقینی بنائے تاکہ معاشرہ جرائم سے محفوظ ہو سکے۔