سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری

ایڈیٹر  |  اداریہ
سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری

4 ارکان پی ٹی آئی سندھ اسمبلی کے استعفے منظور، پی پی نے دہرے کردار کا مظاہرہ کیا۔ رحمن ملک نے کہا تھا استعفے منظور نہ کئے جائیں: شاہ محمود قریشی۔ ممبران نے ستمبر 2014ء میں استعفے دیدیئے تھے، معاملات حل کرنے کی پوری کوشش کی: سپیکر سندھ اسمبلی۔ وفاق اور پنجاب میں بھی منظور کئے جائیں۔ شریں مزاری۔ عارف علوی
سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج نے بالآخر 4 ماہ بعد پی ٹی آئی کے 4 ارکان اسمبلی خرم شیر، اور ثمر علی کے استعفے منظور کر لئے۔ اس عرصہ کے دوران مختلف ذرائع سے بھرپور کوشش کی گئی کہ مفاہمت کی کوئی راہ نکل آئے اور تحریک انصاف اپنے استعفے واپس لے مگر ایسی کوئی راہ نہ نکل سکی اور اب شاہ محمود قریشی یہ گلہ کرتے حق بجانب نہیں لگتے کہ پیپلز پارٹی نے دوعملی کا مظاہرہ کیا مرکزی قیادت استعفے منظور نہ کرنے کے حق میں تھی۔ دوسری طرف عارف علوی اور شیریں مزاری زور دے رہے ہیں کہ قومی اور پنجاب اسمبلی میں بھی انکے ارکان کے استعفے منظور کئے جائیں اس طرح تو معلوم ہوتا ہے کہ خود پی ٹی آئی بھی استعفوں کے معاملے میں دوعملی کا شکار ہے۔ کوئی اسکے حق میں ہے اور کوئی نہیں۔ امید ہے کہ اب سینٹ کے الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں کی منظوری کا معاملہ حل ہو جائیگا اور منظوری کی صورت میں سینٹ میں پی ٹی آئی کو ملنے والی نشستوں کی تعداد کم ہو جائیگی۔ اگر اس بات کا ادراک تحریک انصاف کی قیادت پہلے کر لیتی تو یہ پریشانی نہ ہوتی۔ اب دیکھنا ہے پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ارکان کے بارے میں کیا فیصلہ سامنے آتا ہے جو اب تک مفاہمت کی سیاست کے نام پر التوا میں پڑے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ آئین اور قانون کیمطابق یہ فیصلہ بھی جلد کیا جائے تاکہ کنفیوژن ختم ہو اور اس اہم ایشو کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔