اوباما کا سٹیٹ آف دی یونین سے خطاب‘ دنیا کی حفاظت کیلئے طاقت کے استعمال اور یکطرفہ کارروائی کا اعلان

ایڈیٹر  |  اداریہ
اوباما کا سٹیٹ آف دی یونین سے خطاب‘ دنیا کی حفاظت کیلئے طاقت کے استعمال اور یکطرفہ کارروائی کا اعلان

امریکی مہم جوئی عالمی امن کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ کا باعث بن سکتی ہے
امریکی صدر اوبانے واشنگٹن میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس ’’سٹیٹ آف دی یونین‘‘ سے خطاب کرتے کہا ہے کہ پاکستان سے لیکر فرانس تک دہشت گردی کانشانہ بننے والے تمام متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں، دہشت گردوں کا پیچھا کرتے رہیں گے اور انکا نیٹ ورک ختم کردینگے۔ پشاور سکول پر حملہ کرنیوالے دہشتگردوں کا پیچھا کر کے انکا خاتمہ کرینگے۔ جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت متاثر ہوئی، اب ہم یہ صورتحال بدل دینگے، دنیا کی حفاظت کیلئے ہمیں اپنی پوری طاقت استعمال کرنی چاہیے۔ امریکہ جہاں دہشت گردی کا خطرہ محسوس کریگا وہاں یکطرفہ کارروائی کاحق محفوظ رکھتا ہے۔
سٹیٹ آف یونین خطاب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے‘ جتنی خود امریکہ کی۔کانگرس سے پہلا سٹیٹ آف دی یونین خطاب امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے 8 جنوری 1790ء کو اس وقت کے امریکی دارالحکومت نیویارک میں کیا تھا۔ اس خطاب میں امریکی صدر اپنی گزرے سال کی کارکردگی اور کامیابیوں سے کانگرس کو آگاہ کرتا اور اگلے سال کی ممکنہ پلاننگ پر ایوان بالا اور ایوان زیریں کو اعتماد میں لیتا ہے۔ اوباما نے اپنے حالیہ خطاب میں بڑے بلند بانگ دعوے اور امریکیوں سے انکی مستقبل کی بہتری کے وعدے کئے ہیں۔ انکے پاس صدارت کے دو سال بچے ہیں‘ اوباما کی پالیسیوں کے باعث انکی ڈیموکریٹک پارٹی کانگرس میں اکثریت کھو چکی ہے جس سے اس تاثر کا پیدا ہونا فطری امر ہے کہ ڈیموکریٹس نے اقتدار میں رہتے ہوئے اپنی اکثریت کھو دی جس سے ری پبلیکنز کے آئندہ اقتدار میں آنے کے واضح امکانات ہیں۔ ضروری نہیں کہ اوباما نے عالمی تھانیدار بننے کیلئے آج جو اہداف مقرر کئے ہیں‘ ری پبلیکنز بھی ممکنہ کامیابی کے بعد انہیں اپنا نصب العین قرار دیں۔ اوباما نے بش کی احمقانہ پالیسیوں کو جاری رکھ کر دنیا میں آگ بارود اور خون کا کھیل جاری رکھا جس سے لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے اور بلاشبہ کروڑوں متاثر ہوئے اور بالآخر بش کی پوری دنیا کو تسخیر کرنے کی اوباما بھی خواہش پوری نہ کرسکے۔ نائن الیون کے بعد بش نے افغانستان پر حملے سے قبل دہشت گردی کیخلاف جنگ کو کروسیڈ قرر دیا تھا۔ اس جنگ کے بعد دہشت گردوں کا تو خاتمہ نہ ہو سکا البتہ تہذیبوں کے مابین نفرتیں ضرور بڑھ گئیں۔ اس سے اوباما انتظامیہ نے شاید کوئی سبق نہیں سیکھا۔ وہ بدستور پوری دنیا پر تسلط  کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
اوباما کہتے ہیں کہ دنیا کی حفاظت کیلئے ہمیں اپنی پوری طاقت استعمال کرنی چاہیے۔ امریکہ جہاں دہشت گردی کا خطرہ محسوس کریگا‘ وہ یکطرفہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بقول اوباما کے امریکہ جس یکطرفہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے‘ وہ حق اسے کس نے دیا ہے؟ اوباما کے اس مؤقف کی مہذب دنیا تحسین تو کیا حمایت بھی نہیں کر سکتی۔ یہ تو جس کی لاٹھی اسکی بھینس والی بات ہے۔ آج دنیا کے بہت سے ممالک اور وہاں کے عوام امریکی پالیسیوں کے باعث غیرمحفوظ ہیں۔ اس حوالے سے افغانستان‘ عراق اور لیبیا کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ داعش کیخلاف اوباما نے اپنے اسی خطاب میں فوجی کارروائی کی اجازت مانگی ہے۔ داعش بلاشبہ عراق اور شام میں دہشت گردی میں ملوث ہے‘ اس حوالے سے امریکہ عراق کے ساتھ تو کھڑا ہے جبکہ شام کی حکومت کو ختم کرنے کے درپے عرب ممالک کی قیادت کررہا ہے۔ایسے دہرے معیارات کی حامل قیادت پر دنیا کیا اعتبار کریگی!
 دنیا میں کیا وہی دہشتگردی ہے جسے امریکہ دہشت گردی سمجھ لے اور قرار دے دے؟ فلسطین میں اسرائیل بچوں اور خواتین کو بمباری کا نشانہ بناتا ہے‘ زخمیوں تک ادویات اور بچوں تک دودھ کی رسائی ناممکن ہے‘ فلسطینی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں‘ ان پر اسرائیلی جارحیت کیا دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی؟ کشمیر کی بات کریں تو یہاں بھارتی دہشت گردی کی بھی فلسطین جتنی ہی تاریخ ہے۔ یہاں بھارتی افواج نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتی چلی آرہی ہیں۔ مقبوضہ وادی میں سفاک بھارتی سپاہ کے ہاتھوں کسی کی جان محفوظ ہے‘ نہ عزت‘ جہاں ہزاروں کی تعداد میں اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں‘ خواتین کے ساتھ زبردستی کی ہزاروں کہانیاں موجود ہیں۔ امریکہ کو یہ دہشتگردی کیوں نظر نہیں آتی؟ امریکہ اپنے مطابق دنیا سے واقعی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سرگرم ہوتا تو یقیناً فلسطینی اور کشمیری آزادی کی نعمت سے سرفراز ہو چکے ہوتے اور اسلامی دنیا کے ہاں بھی امریکہ کو احترام اور قدر منزلت کی نظر سے دیکھا جاتا۔ امریکی پالیسیوں سے لگتا ہے کہ اسکے قریب مسلم ریاستیں ہی دہشتگردی کی مرتکب ہوتی ہیں جن کیخلاف وہ یکطرفہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایسے حق کو حق نہیں جارحیت اور بدمعاشی ہی قرار دیا جا سکتا ہے جس کی مہذب دنیا میں کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔
سانحہ پشاور کو پاکستان کا نائن الیون کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ 16 دسمبر 2014ء کی دہشتگردوں کی بربریت کے بعد قوم اور تذبذب کا شکار حکومت پورے عزم کے ساتھ دہشتگردوں کے خاتمہ کیلئے سرگرم اور پاک فوج کے شانہ بشانہ ہو گئی۔ دہشت گرد ملک کیلئے ناسور بن چکے ہیں۔ ملک کو انکے وجود سے نجات دلانا قوم‘ فوج اور حکومت کا نصب العین ٹھہرا۔ وزیراعظم نوازشریف نے آج ہی کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف آخری دہشتگرد کے تعاقب اور خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔ دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے خصوصی قوانین بھی بنائے گئے۔ مناسب ہو تو اس عظیم مشن کی خاطر دوسرے ممالک سے تعاون حاصل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں‘ اس کا فیصلہ پاکستان نے کرنا ہے۔ سری لنکا میں تامل ٹائیگر کے خاتمے میں پاک فوج کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ سری لنکا نے بالآخر باغیوں کو 25 سال بعد شکست دیدی۔ پاکستان کے پاس دہشتگردوں کے خاتمہ کیلئے اتنا وقت نہیں ہے۔ جس طرح تیزی سے اپریشن ضرب عضب جاری ہے اور پاک فوج دہشتگردوں کا تعاقب کر رہی ہے‘ یہ جنگ برسوں پر محیط نہیں ہو گی۔ ہمیں جتنا جلد ممکن ہو‘ دہشتگردی سے نجات حاصل کرنی ہے‘ اس کیلئے اگر دوسرے ممالک سے تعاون کی ضرورت پڑے تو اپنی ضرورت کیمطابق حاصل کرلینا چاہیے۔ اگر کوئی ملک اسکی پیشکش کرے تو اس پر بھی غور ہو سکتا ہے لیکن امریکہ جس طریقے سے کہہ رہا ہے کہ پشاور سکول پر حملہ کرنیوالوں کا تعاقب کرکے ان کا خاتمہ کر دینگے‘ یہ پیشکش نہیں بلکہ طاقت کے خمار میں ایک دھونس ہے جسے پاک فوج قبول کریگی‘ نہ حکومت اور قوم کیلئے قابل قبول ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو نشاندہی کر دی ہے کہ پشاور سانحہ کے ذمہ دار اور ماسٹر مائنڈ افغانستان میں پناہ گزین ہیں‘ امریکہ ان کا وہاں پیچھا کرکے ان کو انجام تک پہنچائے۔ امریکہ پاکستان کی دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے مدد کرنا چاہتا ہے تو اس حوالے سے مہذبانہ طریقے سے پیشکش کرے۔ حکومت اور فوج پاکستان کی خودمختاری‘ سلامتی‘ سالمیت اور وقار کو پیش نظر رکھ کر اس پر غور کریگی۔ اوباما کی زبان میں دنیا کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جانے کا اعلان ایک مہم جوئی ہے جو عالمی امن کو لاحق خطرات میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔