امریکی صدر اوباما کی امن و ترقی کی خواہش

امریکی صدر اوباما نے اپنی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگوں کا عشرہ ختم ہو رہا ہے ہر جگہ جمہوریت کی حمایت کرینگے اور بدترین دشمنوں کو دوست بنانے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ بیان عالمی مستقبل کیلئے خوش آئند بھی ہے اور امید افزا بھی کہ ایک سپر پاور کا صدر دنیا سے جنگی جنون کے خاتمے کی بات کر رہا ہے اور دشمنوں کو دوست بنانے کا ذکر کر رہا ہے۔ اگر امریکہ کی پالیسیاں صدر اوباما کے بیان کے مطابق بن جائیںتو اس سے مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ میں قیام امن کو فروغ ملے گا۔ اس وقت افریقہ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں جو جنگی فضا قائم ہے، اور کئی ممالک اسکی لپیٹ میں ہیں وہاں اس پالیسی اور جمہوریت کے نفاذ اور دشمنوں سے دوستی کیلئے خود امریکہ کو پہل کرنا ہو گی اورپہلے اپنے کردار کا جائزہ بھی لینا ہو گا کیونکہ اکثر شورش زدہ علاقوں میں امریکی عمل دخل نمایاں نظر آتا ہے‘ اس لئے امریکہ کو پہلے اپنے ان رویوں کی اصلاح کرنا ہو گی جن کی وجہ سے دنیا کے مختلف علاقوں میں شورش برپا ہے اور تصادم عروج پر ہے۔ اگر صدر اوباما واقعی دنیا میں جمہوریت، امن، معاشی ترقی دیکھنا چاہتا ہے تو انہیں دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے دور رہتے ہوئے وہاں کے عوامی جذبات کا احترام کرنا ہو گا۔ اس وقت کیا دوست کیا دشمن سب امریکی رویوں کے شاکی ہیں۔ اب اگر امریکہ دنیا میں امن اور ترقی چاہتا ہے تو اسے عالمی تنازعات کے خاتمے کیلئے اپنا اثر رسوخ استعمال کرنا ہو گا۔ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے اور زبردستی دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوششوں سے احتراز کرنا ہو گا۔