صدر اوباما امریکی تھنک ٹینک کے مشورے پر مسئلہ کشمیر حل کرائیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
صدر اوباما امریکی تھنک ٹینک کے مشورے پر مسئلہ کشمیر حل کرائیں

امریکی پالیسی سازوں نے اوباما انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرانے کیلئے امریکی صدر کو اپنا رول ادا کرنا چاہئے تاکہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکا جا سکے اوربھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
جنوبی ایشیاء کا سب سے اہم مسئلہ کشمیر ایشو ہے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مابین تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ ابھی دونوں ممالک کی سرحدوں کی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بھارت کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں لیکر گیا تھا لیکن اب خود ہی اقوام متحدہ کے احکامات ماننے سے انکاری ہے۔ اب اگر مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تو اس خطے میں موجود دو ایٹمی قوتوں کے مابین ایٹمی جنگ چھڑنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ امریکہ نے کریمیا کے معاملے پر روس کی جی 8 ممالک کی رکنیت بھی معطل کر دی ہے۔ امریکہ اگر روس کیخلاف اقدامات کر سکتا ہے تو پھر اسے بھارت کیخلاف بھی ایسے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ جنوبی ایشیا کا خطہ کسی بڑے تصادم سے بچ جائے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر اس خطے میں بدامنی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جو امریکہ کیلئے بھی سود مند نہیں ہے۔ امریکی پالیسی سازوں نے اوباما کو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دیا ہے۔ لہٰذا صدر اوباما اس خطے میں امن کیلئے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں  یو این کی قراردادوں پر عمل درآمد میں کلیدی کردار ادا کریں۔ تاکہ خطے میں خطرے کے منڈلاتے بادل جھٹ جائیں۔