حکومت کا کسی دوسرے ملک کو فوج نہ دینے کا اطمینان بخش فیصلہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکومت کا کسی دوسرے ملک کو فوج نہ دینے کا اطمینان بخش فیصلہ

وزیراعظم  میاں محمد نواز شریف نے پی اے ایف میانوالی بیس کو پی اے ایف ایم ایم عالم بیس کے نام سے منسوب کرنے کی تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے کسی نے فوج مانگی ہے اور نہ ہی ہم فوج کہیں بھیج رہے ہیں، بحرین کے شاہ کے دورے میں جو معاہدے ہوئے وہ میڈیا میں آ چکے ہیں، سعودی عرب اور بحرین کے سربراہان نے بہت عرصے بعد پاکستان کا دورہ کیا جبکہ  دوسرے دوست ممالک کے سربراہان بھی پاکستان کا دورہ کریں گے۔دریں اثناء امیر بحرین کے دورے کے اختتام پر بحرینی  وزیر خارجہ خالد بن احمد اور وزیر مواصلات کمال احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے جس پر ہمارے سخت تحفظات ہیں۔ امیر بحرین شیخ احمد بن عیسیٰ کی وزیراعظم نواز شریف اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقاتوں میں شام کے سیاسی حل پر بات ہوئی، پاکستان سے کسی قسم کے دفاعی تعاون کا مطالبہ نہیں کیا نہ ہی پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ کے لئے کوئی رقم دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، بحرین پاکستان میں توانائی کے شعبے بالخصوص بجلی گھروں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک سمیت سب شام کے مسئلے کا جنیوا ون اعلامیے کے تحت سیاسی حل چاہتے ہیں جبکہ پاکستانی حکام نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ بحرین اور پاکستان کے تاریخی دفاعی تعلقات ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے مابین دفاعی تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے دفاعی تعاون کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ بحرینی فرمانروا کے دورہ کا مقصد پاکستان سے کسی قسم کی دفاعی مدد حاصل کرنا نہیں تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شام بارے جنیوا ون اور ٹو معاہدوں کی حمایت کا مقصد اسرائیل کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ شام میں انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے اس کو روکنا ہے۔
مصر‘ شام اور ایران کے حوالے سے سعودی عرب اور بحرین کا یکساں مؤقف ہے۔ رواں سال کے شروع سے گزشتہ ماہ کے وسط تک سعودی شاہی خاندان کے افراد اور وزراء نے پاکستان کے متواتر دورے کئے۔ 18 فروری کو ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ قبل ازیں میڈیا میں یہ خبریں بھی زیر گردش تھیں کہ خود فرمانروا شاہ عبداللہ 18 فروری کو پاکستان تشریف لائیں گے‘ اس سے دورے کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا تھا تاہم صحت کے مسائل کے باعث شاہ عبداللہ پاکستان نہ آسکے۔ ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز کی پاکستان میں بھرپور پذیرائی ہوئی۔ انکے دورے سے قبل ہی میڈیا میں یہ تجزیے شائع اور نشر ہو رہے تھے کہ سعودی عرب کو بشارالاسد حکومت کیخلاف اسلحہ اور فوج کی ضرورت ہے۔ ولی عہد اسکے حصول کے معاہدوں کیلئے پاکستان آرہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ سعودی عرب ایران سے نمٹنے کیلئے بھی پاکستان سے تعاون کا طلبگار ہے۔ اگر یہ چہ میگوئیاں اور افواہیں تھیں تو ان کو تقویت سعودی عرب کی طرف سے ڈیڑھ بلین ڈالر کی پاکستان کو ادائیگی سے ملی جسے گفٹ کا نام دیا گیا۔ پہلے تو حکمران ڈیڑھ ارب ڈالر کے سورس کو چھپاتے رہے اور اب تک یہ معمہ کھڑا کیا ہوا ہے کہ برادر اسلامی ملک نے پاکستان پر نوازش کس مد میں کی ہے۔  ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ان خبروں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا  تھا کہ  چند ٹکوں کی خاطر فوج کو لڑنے کیلئے بغیر سوچے سمجھے دوسرے ممالک بھجوا دیا جاتا ہے۔ فوج حکمرانوں کے ایسے احکامات ماننے سے انکار کردے جو ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہوں۔ خودمختار ریاستیں غیرت مند ہوتی ہیں۔
سعودی عرب کی ایران اور شام کے ساتھ کشیدگی میں اگر کسی کو شک و شبہ تھا تو وہ بحرین کے وزیر خارجہ نے اپنی پریس کانفرنس میں دور کر دیا۔ شامی حکومت کی طرف سے باغیوں کیخلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے تو سعودی عرب نے امریکہ سے شام پر حملہ کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ اس جنگ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی بھی پیشکش کی ۔ امریکہ نے حملے کی تیاری کی تاہم عالمی برادری کے دبائو پر اپنا ارادہ ترک کردیا۔ اتفاق سے ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تو امریکہ نے اس پر عائد کی گئی کئی پابندیاں اٹھالیں۔ اسکے بعد امریکہ ایران تعلقات میں پہلے جیسی کشیدگی نہیں پائی جاتی جبکہ سعودی حکومت کے شام اور ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں بہتری نہیں آئی البتہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں سردمہری ضرور آگئی ہے۔
بحرینی وزراء نے اپنی پریس کانفرنس میں ایران کی مشرق وسطیٰ بالخصوص بحرین میں مداخلت پر جن شدید تحفظات کا اظہار کیا اور شام کے بارے جنیوا ون اور ٹو معاہدوں کی بات کی‘ اس سے بھی معاملہ کلیئر ہونے کے بجائے گرد آلود ہو گیا۔ اس پر مزید گرد اس وقت پڑ گئی جب بحرینی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ آئندہ بھی دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا لیکن دفاعی تعاون کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ دیر آید درست آید وزیراعظم نوازشریف نے یہ کہہ کر معاملہ صاف کردیا کہ پاکستان سے کسی نے فوج مانگی ہے اور نہ ہم فوج کہیں بھیج رہے ہیں۔ الطاف حسین نے بھی اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ قوم بھی مطمئن ہے۔ میاں نوازشریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے کافی عرصہ بعد قوم سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ عوام کو سچ بتایا جائیگا اور قوم سے کچھ بھی چھپایا نہیں جائیگا۔ قوم جانتی ہے کہ سعودی عرب سے ڈیڑھ ارب ڈالر کس مد میں وصول کئے گئے۔ بحرینی وزیر خارجہ دفاعی تعاون کی تفصیلات بتانے سے کیوں گریز کرتے رہے۔
پاکستان افواج عرب ممالک میں خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ سعودی عرب سمیت کسی بھی عرب ملک کو اپنی سلامتی کیلئے پاک فوج کی ضرورت ہے تو پہلے کی طرح یہ عمل جاری رکھنے میں حرج نہیں لیکن یہ کسی دوسرے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے استعمال ہو تو نہ صرف اس ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہونگے بلکہ پاکستان میں فرقہ واریت کی کسی حد تک سرد پڑتی آگ پھرمزید شدت سے بھڑک اٹھے گی۔ پاکستان ابھی تک عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے‘ اسلامی ممالک میں اسے اسلام کا قلعہ بھی سمجھا جاتا ہے‘ اسکے حکمرانوں کا فرض ہے کہ ڈالروں کے لالچ میں کسی ایک بلاک سے نتھی ہونے کے بجائے اسلامی ممالک کے درمیان پائے جانیوالے اختلافات ختم کرانے کی کوشش کریں۔