بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے سے اجتناب کیاجائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
 بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے سے اجتناب کیاجائے

 وزیراعظم میاں نواز شریف کی مصروفیات کے باعث وفاقی کابینہ کا طلب کیا جانے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔اجلاس کے ایجنڈے میں حج پالیسی 2014 اور بھارت کو تجارت میں پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی تجویز شامل تھی۔
 اجلاس میں اصل معاملہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کا تھا، جس پر تاجر برادری کو بھی تحفظات تھے۔ وفاقی وزیر تجارت مسلم لیگی زادہ خرم دستگیر گزشتہ دن لوگوں سے مل کر انہیں قائل کرتے رہے لیکن تاجر برادری کے تحفظا ت دور نہ کیے جاسکے جس کے باعث اجلاس کو ملتوی کردی گیا ۔ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے میں ایک رکاوٹ جی ایچ کیو کی خاموشی بھی ہے۔ فوج نہیں چاہتی کہ مسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈال کر بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیاجائے جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے پر سینٹ میں احتجاج کا فیصلہ کیا ہوا تھااس لئے حکومت نے یہ معاملہ بھارت کی نئی آنے والی حکومت کیلئے چھوڑ کر دیا۔ سیاسی جماعتوں اور عوام کے ممکنہ ردعمل سے بچنے میں ہی عافیت سمجھی ہے۔ حکومت بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن قرار دیکر کشمیری عوام اور پاکستانیوں کے زخموں پر نمک مت چھڑکے اس سے ملک کے اندر انتہائی بُرا اثر پڑے گا ‘ بغاوت کی حد تک …جس سے کمزور حکومت کا نمٹنا محال ہوگا۔