حکومتی غفلت سے یوٹیلٹی عدالتیں غیر موثر

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکومتی غفلت سے یوٹیلٹی  عدالتیں غیر موثر

وفاق کی ناقص قانون سازی‘ ہائی کورٹ نے پنجاب میں گیس یوٹیلٹی عدالتیں غیر موثر قرار دے دیں۔ انسداد گیس چوری آرڈیننس 2014 میں توسیع ہوئی نہ سینٹ سے بل منظور ہوا: جسٹس شاہد ندیم۔ اب گیس چوری کے مقدمات کی سماعت عام عدالتیں مروجہ قوانین کے تحت کریں گی۔گیس کی چوری روکنے کےلئے وفاقی حکومت نے جنوری 2014ءمیں گیس چوری کے مقدمات کے جلد ٹرائل کےلئے اور بقایا جات کی ریکوری کےلئے آرڈیننس کے تحت ملک بھر میں یوٹیلٹی عدالتیں قائم کی تھیں۔ جس کو لاہور ہائیکورٹ میں 80 سے زیادہ درخواست گزاروں نے چیلنج کیا ہوا تھا۔ پورے سال حکومت روایتی کاہلی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ اہم آرڈیننس جس کا مقصد بڑے بڑے گیس چوروں کو پکڑنا اور ان کے ذمہ اربوں روپے کے واجب الادا بقایا جات وصول کرنا تھا، سینٹ سے منظور نہ کروا سکی۔ یوں یہ آرڈیننس توسیع نہ ہونے کی وجہ سے اپنی موت آپ مر گیا۔ اور عدالت نے اس آرڈیننس کے تحت تمام مقدمات عام عدالتوں میں منتقل کر دیئے۔ چنانچہ اب یہ مقدمات مزید کئی سال چلتے رہیں گے۔ اور گیس چوروں کی فوری گردن پکڑنے اور ان سے واجبات کی فوری وصولی کا خواب ایک بار پھر ادھورا ہی رہ جائے گا۔ وفاقی حکومت ایسے آرڈیننس جاری ہی کیوں کرتی ہے جنہیں قانونی شکل دینے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ لاکھوں روپیہ اور عدالتوں کا قیمتی وقت مقدمے بازی میں صرف ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ حکومت کی اسی روایتی نااہلی کی وجہ سے ہمارے ہاں قانون شکن عناصر ہوں یا گیس اور بجلی چور یا پھر ٹیکس چور سب فائدہ اٹھاتے ہیں اور نقصان صرف اور صرف عوام کا ہوتا ہے۔