انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا پاکستان پر پھانسیاں روکنے کے لئے دباﺅ اور پاکستان کا دوٹوک جواب

ایڈیٹر  |  اداریہ
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا پاکستان پر پھانسیاں روکنے کے لئے دباﺅ اور پاکستان کا دوٹوک جواب

یورپی ممالک کو دہشتگردی سے نجات کی پاکستان کی کوششوں کو سراہنا چاہئیے

 

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (آئی سی جے) نے پاکستان میں پھانسیاں دوبارہ شروع کرنے کے فیصلہ پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس گروپ نے بھی حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ پھانسیوں کے فیصلہ پر نظرثانی کرے جبکہ آئی سی جے نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت پاکستان سزائے موت پر عملدرآمد فی الفور روک دے اور پشاور میں بے گناہ بچوں اور دیگر افراد کے قتل میں ملوث افراد کو عالمی قوانین کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لائے، آئندہ دہشت گردی کی روک تھام کے اقدامات یقینی بنائے اور مقدمات کو شفاف بنائے۔ دفتر خارجہ پاکستان نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے اس تقاضے کا جواب دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ دہشت گردی جیسے جرائم میں پھانسی بین الاقوامی قوانین کے خلاف نہیں۔ اس سلسلہ میں ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم کے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا ہے اور انسانی حقوق کے حوالے سے تمام معاہدوں کا پاس رکھتا ہے جبکہ دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں سزائے موت بین الاقوامی قوانین سے ہرگز متضاد نہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے بقول یورپی یونین اور مغربی ممالک کے سفیروں نے سزائے موت پر عملدرآمد سمیت دہشت گردی کے خلاف تمام اقدامات کی حمایت کی ہے اور اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ وہاں سے دہشت گردی کی جڑوں کو ختم نہ کر دیا جائے۔
انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کے داعی مغربی معاشرے کا اس سے بڑا تضاد اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کی جانب سے ہم سے دہشت گردی کے سدباب کا بھی شد و مد سے تقاضہ کیا جاتا ہے جس کےلئے دہشت گردوں کے خاندانوں سمیت ان کا خاتمہ ان کی اولین خواہش ہوتی ہے اور اس حوالے سے اُٹھائے گئے پاکستان کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا ہے مگر اسی اثناءمیں انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر پاکستان پر موت کی سزا ختم کرنے کےلئے بھی دباﺅ بڑھایا جاتا رہا ہے اور بالخصوص یورپی یونین کی جانب سے تو پاکستان کو یہ پیغام بھی دے دیا گیا کہ اگر اس نے موت کی سزا برقرار رکھی تو اس کےلئے تجارتی راہداری بند کر کے اس کا ”جی ایس پلس“ کا سٹیٹس ختم کر دیا جائے گا۔ اس دھمکی کے نتیجہ میں ہی پیپلز پارٹی کے سابق دورِ حکومتمیں دہشت گردی، قتل یا اغوا برائے تاوان، خواتین سے زیادتی اور ڈکیتی کے مقدمات میں مروجہ قوانین کے تحت سزائے موت پانے والے مجرمان کو پھانسی پر لٹکانے کا عمل روک دیا گیا جبکہ ان میں سے کئی مجرمان کے بلیک وارنٹ بھی جاری ہو چکے تھے۔ پھر مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت نے بھی اسی تناظر میں پھانسیاں روکے رکھیں جس کےلئے بعض وفاقی وزراءکل تک یہی استدلال پیش کرتے رہے ہیں کہ ہم سزائے موت پر علمدرآمد کی صورت میں یورپی دنیا کو ناراض کر کے اس کی جانب سے حاصل ہونے والا جی ایس پلس کا سٹیٹس ضائع نہیں کرنا چاہتے۔
ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے پاکستان کا اپنا آئین اور اپنے قوانین ہیں جن کے مکمل نفاذ اور ان پر علمدرآمد کے بغیر ہم انصاف، آئین اور قانون کی عملداری قائم کر سکتے ہیں نہ شہریوں کو آئین و قانون پر عملدرآمد کا پابند بنا سکتے ہیں موت کی سزاﺅں کا مقصد آئین و قانون کے تحت معاشرے کو گھناﺅنے قبیح جرائم سے پاک کرنے اور انسانیت کے دشمن قاتلوں پر خوف کی فضا پیدا کر کے انہیں قتل جیسے گھناﺅنے جرائم سے روکنے کا ہوتا ہے۔ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ بعض یورپی مغربی ممالک میں خود ان قبیح جرائم کے سدباب کےلئے موت کی سزائیں رائج کی گئی ہیں مگر ہمارے ملک میں ایک خاص مقصد کے تحت ان سزاﺅں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے نام پر طوفان برپا کر دیا گیا۔
اصولی طور پر تو ہمارے حکمرانوں کو خود ہی کسی بیرونی دباﺅ میں آ کر آئین و قانون کی عملداری پر کمپرومائز نہیں کرنا چاہئے تھا مگر مصلحتوں اور مفادات کے اسیر ہمارے حکمرانوں نے ملکی آزادی و خود مختاری کی بھی پاسداری نہ کی اور یورپی مغربی معاشرے کو خوش کرنے کےلئے تقریباً سات سال تک موت کی سزاﺅں پر عملدرآمد روکے رکھا گیا جس سے لامحالہ جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ملک میں قتل، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور ریپ کی وارداتوں اور دہشت گردی میں کسی پکڑ کا خوف نہ ہونے کے باعث اضافہ ہوتا رہا۔ یقیناً دہشت گردوں کو حکمرانوں کی اس پالیسی کا بھی فائدہ پہنچا چنانچہ وہ بے دھڑک ہو کر ملک میں اپنا نیٹ ورک بڑھاتے رہے اور سکیورٹی فورسز کے دستوں، دفاتر اور اہم تنصیبات تک پر کھلم کھلا حملے کرتے اور بھاری جانی و مالی نقصان پہنچاتے رہے، اسی بنیاد پر ہی ملک کی عسکری قیادتوں کی جانب سے حکومت سے تسلسل کے ساتھ یہ تقاضا کیا جا رہا تھا کہ دہشت گردی کےمقدمات میں موت کی سزا پانے والے مجرمان کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے تاکہ سکیورٹی فورسز سے برسر پیکار ان کے ساتھیوں کو عبرت حاصل ہو سکے۔ اگر پشاور کا سانحہ رونما نہ ہوا ہوتا تو شاید حکمرانوں کے دل میں سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے فیصلہ سے رجوع کرنے کی کبھی سوچ پیدا نہ ہوتی کیونکہ وقوعہ سے چند روز پہلے تک وفاقیوزراءسزائے موت معطل رکھنے کے فیصلہ کی وکالت کرتے ہی نظر آ رہے تھے تاہم ملٹری پبلک سکول پشاور میں 16 دسمبر کو ظالم و سفاک دہشت گردوں کی جانب سے جس بے دردی کے ساتھ معصوم و بے گناہ بچوں اور ان کے اساتذہ کو ذبح اور گولیوں سے چھلنی کیا گیا اس کے بعد ان دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں و سہولت کاروں کو عبرتناک سزائیں دلوانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا تھا جبکہ سزائے موت پر عملدرآمد رکنے کے باعث سزائے موت پانے والے مجرمان کی تعداد آٹھ ہزار سے بھی تجاوز کر گئی تھی جن میں 553 ایسے دہشت گرد مجرمان بھی شامل تھے جن کی موت کی سزاﺅں کے خلاف اپیلیں بھی تمام مجاز فورموں پر مسترد ہو چکی تھیں اور ان میں سے بعض کے بلیک وارنٹ تک جاری ہو چکے تھے مگر صدر مملکت کے آئینی صوابدیدی اختیارات استعمال کرا کے ان مجرمان کو پھانسی پر لٹکانے کا معاملہ مو¿خر رکھوایا گیا۔ اب سانحہ پشاور کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران پھانسیاں معطل رکھنے کا فیصلہ نہ صرف واپس لے لیا گیا بلکہ اب دہشت گرد مجرمان کو مختلف جیلوں میں پھانسی دینے کا آغاز بھی ہو چکا ہے اور گزشتہ روز بھی فیصل آباد جیل میں چھ مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے جس سے ایک تو لوگوں میں یہ سزائیں روکنے کے باعث پیدا ہونے والی اضطراب کی کیفیت ختم ہو رہی ہے اور دوسرے اب دہشت گردوں کے سرپرستوں، معاونین، سہولت کاروں اور ہمدردوں کو بھی یہ کان ہو گئے ہیں کہ قانون و انصاف کا پھندا ان کی گردنوں تک بھی آ سکتا ہے۔ اس وجہ سے ہی قوم میں دہشت گردوں کے خلاف اتحاد و یکجہتی کی فضا ہموار ہوئی ہے اور آج کھلے عام ان کی وکالت کرنے والا بھی کوئی نظر نہیں آتا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے غیر ملکی دہشت گردوں کو بھی وارننگ دی ہے کہ وہ پاک سرزمین کو چھوڑ دیں ورنہ ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ اسی طرح دہشت گردوں کے خلاف اپریشن ضرب عضب بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور گزشتہ روز پشاور اور شبقدر میں پولیس اور ایف سی کی مشترکہ کارروائی میں سانحہ پشاور کے ماسٹر مائینڈ کے بھائی سمیت 34 دہشت گرد کیفر کردار کو پہنچے ہیں جبکہ دتہ خیل میں ڈرون حملے میں گل بہادر گروپ کے کمانڈر سمیت سات دہشت گرد مارے گئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مقدمات میں موت کی سزا پانے والے مجرمان کو پھانسی پر لٹکانے کا عمل بھی جاری ہے تو اس سے یقیناً ملک کو دہشت گردی کے ناسُور سے مکمل نجات دلانے کی راہ ہموار ہو گی جس پر دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر تحفظات کا اظہار کرنے والے یورپی ممالک کو تو خوش اور مطمئن ہونا چاہئے چہ جائیکہ کہ اب انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے ذریعے پاکستان پر موت کی سزائیں رکوانے کےلئے دباﺅ ڈالا جائے۔ موت کی سزا پانے والے مجرمان کو تمام قانونی تقاضے پورے کر کے پھانسی دینا چونکہ ہمارے آئین و قانون کا بھی تقاضہ ہے اور ہمارے مفاد میں بھی ہے اس لئے اب اس معاملہ میں بیرونی دنیا کی جانب سے ہم پر کسی قسم کا دباﺅ ڈالنے کا کوئی جواز ہے نہ پاکستان کو یہ دباﺅ قبول کرنا چاہئے۔