اس سے دین اسلام کے انتہاءپسندانہ اور متشدد ہونے کے غلط تاثر کا بھی ازالہ ہو سکتا ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
اس سے دین اسلام کے انتہاءپسندانہ اور متشدد ہونے کے غلط تاثر کا بھی ازالہ ہو سکتا ہے

مولانا فضل الرحمان کی علماءکرام کو پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو سیاست کے قومی دھارے میں لانے کی تلقین

جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ علماءکو پارلیمانی نظام اپنانا ہوگا ورنہ لوگ انکے پاس صرف دم درود کرانے ہی آئینگے‘ جنہیں پارلیمانی جدوجہد پر یقین نہیں وہ اس کا متبادل بتائیں اور ضمانت دیں کہ بندوق سے اسلام نافذ ہو جائیگا۔ گزشتہ روز فیصل آباد اور ملتان میں علماءکرام کی دو تقاریب سے خطاب اور ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم عصری علوم کیخلاف نہیں‘ نفاذ نظام اسلام کیلئے جدوجہد کررہے ہیں‘ مسلمان ناموس رسالت مآب کے تحفظ کیلئے اٹھ کھڑے ہوں اور پارلیمنٹ میں قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلے کئے جائیں۔ ہم ملک کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم فوجی عدالتوں کو ناپسندیدہ سمجھتے ہوئے بھی قبول کرینگے‘ قانون کو امتیازی نہیں ہونا چاہیے اور پانامہ کیس کا جو بھی فیصلہ آئے‘ سب کو قبول کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر تشکیل پانے والے پاکستان میں ہم ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ نہ کرسکیں تو ہمیں جینے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں‘ علماءبچوں کے کان میں اذان اور نکاح‘ جنازہ کی طرح عوام کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پبلک کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے سیاست میں حصہ لیں‘ بندوق کے ذریعے اسلامی نظام نہیں آسکتا اور اسلامی نظام کی خواہش پارلیمنٹ و سیاست سے انکار کرکے پوری نہیں ہوگی‘ ہمیں اس کیلئے جمہوریت اور پارلیمنٹ کا راستہ ہی اپنانا پڑیگا۔ انکے بقول یہاں سیاست کو گالی بنا دیا گیا ہے‘ اسے پاک کرنے کیلئے باکردار اور صالح علماءعوامی اعتماد کے ساتھ ووٹ حاصل کرکے پارلیمنٹ میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے آئندہ انتخابات کیلئے اپنی پارٹی کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے بھی آگاہ کیا۔
جمہوریت کے حوالے سے مختلف مکتبہ ہائے فکر کے لوگوں اور علماءکرام میں متضاد آراءرہی ہیں تاہم یہ اٹل حقیقت ہے کہ اسلام کا شورائی نظام جمہوریت کے قریب تر ہے جس کیلئے علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے متعدد مدلل کتب تحریر کی ہیں اور اسکی بنیاد پر ہی انہوں نے تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ سیاست میں آنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ جمہوریت کی بنیاد پر اور جمہوریت کے ذریعے ہی مملکت خداداد پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور بانی¿ پاکستان قائداعظم نے اس میں اسلامی جمہوری فلاحی معاشرے کی تشکیل اپنا مطمع¿ نظر بنایا۔ تحریک پاکستان برصغیر کے جید علماءکرام اور ان سے وابستہ مدارس کے طلبہ کی پرجوش شمولیت سے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی اور جن علماءکرام نے ایک مخصوص نکتہ¿ نظر کے تحت قیام پاکستان کی مخالفت کی انہوں نے بھی قیام پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا اور پاکستان کا حصہ بننے والے ان علماءکرام نے خود کو پاکستان کے استحکام‘ ترقی اور خوشحالی کیلئے کوششیں بروئے کار لانے کیلئے وقف کردیا اور انکی دینی جماعتوں نے پاکستان کی انتخابی سیاست میں بھی پرجوش حصہ لینا شروع کردیا۔ ان میں سیدابولااعلیٰ مودودی کی جماعت اسلامی کے علاوہ مفتی محمود کی جمعیت علماءاسلام بھی شامل تھیں۔ مفتی محمود کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمان اس وقت جمعیت علماءاسلام کے سربراہ ہیں جنہوں نے اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی دینی جماعت کو سیاست کے قومی دھارے میں شامل رکھا ہوا ہے۔ مولانا مفتی محمود نے مرحوم بھٹو کے دور حکومت میں سرگرم سیاسی کردار ادا کیا۔ اسی دور میں وہ سرحد اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ بنے۔ 1973ءکے آئین کی تیاری میں بھرپور حصہ لیا اور پھر بھٹو کی سول آمریت کیخلاف شروع ہونیوالی پی این اے کی تحریک میں سرگرم حصہ لیا اور اس تحریک کے سربراہ بھی بنے چنانچہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اپنے والد محترم کے سیاسی ورثے کو حرزجاں بنایا جنہوں نے ضیاءالحق کی جرنیلی آمریت کیخلاف 80ءکی دہائی میں شروع ہونیوالی تحریک بحالی ¿ جمہوریت (ایم آرڈی) میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ آٹھ سال پر محیط اس تحریک میں پیپلزپارٹی‘ تحریک استقلال اور اے این پی کے مساوی مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علماءاسلام بھی قیدوبند کی صعوبتوں کے زیور سے آراستہ رہی اور اسے پارلمیانی جمہوری سیاست کی اہمیت کا ادراک ہونے کے باوجود جنرل ضیاءالحق کے اعلان کردہ 1985ءکے غیرجماعتی انتخابات کے بائیکاٹ سے متعلق ایم آر ڈی کے فیصلہ کا پابند ہونا پڑا۔ تاہم 1988ءکے انتخابات میں ایم آر ڈی تتربتر ہوئی تو مولانا فضل الرحمان نے اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم پر میاں نوازشریف کا حلیف بن کر انتخابی سیاست کا آغاز کیا اور اس وقت سے اب تک وہ اور انکی پارٹی ہر انتخاب میں حصہ لے رہی ہے اور پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر سرکاری اور اپوزیشن بنچوں پر فعال کردار ادا کررہی ہے۔ اس تناظر میں مولانا فضل الرحمان دینی جماعتوں اور انکے قائدین کو اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے انکی پارلیمنٹ میں موجودگی کی اہمیت سے آگاہ کررہے ہیں تو یہ انکے سیاسی تجربات کا نچوڑ ہے۔ جماعت اسلامی نے بھی پہلے خود کو محض تبلیغ دین کیلئے وقف کر رکھا تھا تاہم 50ءکی دہائی میں جماعت کی شوریٰ نے سیرحاصل بحث کے بعد اس امر سے اتفاق کیا کہ معاشرے کو اسلامی قالب میں ڈھالنا ہے تو اس کیلئے جمہوری انتخابی نظام اور اقتداری سیاست کو اپنانا ہوگا۔ اسی طرح متعدد دیگر دینی اور مذہبی جماعتیں بھی پارلیمانی جمہوری سیاست کی افادیت کو تسلیم کرکے انتخابی عمل میں شامل ہوتی اور پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ دینی جماعتوں کے پارلیمانی جمہوری سیاست میں مثبت کردار کے ذریعے ہی مغرب کے دین اسلام کے بارے میں پیدا کردہ انتہاءپسندی اور متشدد طرز زندگی والے تاثر کا ازالہ کیا جا سکتا ہے اور ایسی ذہنیت کے حامل افراد کے معاشرے میں برپا کئے جانیوالے متشددانہ معرکہ ہائے حق و باطل اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوﺅں سے قوم اور معاشرے کو بچایا جا سکتا ہے۔ شاعر ملت علامہ اقبال نے دین اسلام میں جمہوریت کی افادیت کو اپنے اس شعر کے ذریعہ اجاگر کیا ہے کہ....ع
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
انکے دیئے ہوئے تصور پاکستان کی بنیاد پر ہی قائداعظم محمدعلی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ خطے کی مربوط عوامی تحریک شروع کی تھی جو جمہوریت کی عملداری کے ذریعہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی اس لئے اس ارض وطن کی بنیاد جمہوریت پر استوار ہوئی ہے تو اسے جمہوری‘ اسلامی فلاحی معاشرے کے قالب میں ڈھالنے کیلئے علماءکرام اور دینی جماعتوں کو پارلیمانی جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ خود کو وابستہ کرنے میں کوئی مُفر نہیں ہونا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان کی شخصیت اسکی بہترین مثال ہے اور اس تناظر میں ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ معاشرے کو اسلامی نظام کے قالب میں ڈھالنے کیلئے علماءکرام کو پارلیمنٹ کے اندر جا کر کردار ادا کرنا چاہیے۔ یقینی بات ہے کہ نیک اور صالح افراد عوام کی طاقت سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں آئینگے تو اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے ان منتخب فورموں پر انکی جانب سے اٹھائی جانیوالی آواز کے بھی معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اور ووٹروں میں بہرصورت یہ شعور اجاگر ہو جائیگا کہ انہوں نے بہتر معاشرت کیلئے اسلامی جمہوری فلاحی معاشرے کے تصور کے تحت اپنی ترجمانی کیلئے کس کو منتخب کرکے اسمبلیوں میں پہنچانا ہے اور کس کو حق حکمرانی دینا ہے۔ اس میں ووٹروں کا حسن انتخاب نیک اور صالح افراد کے چناﺅ کیلئے غالب آئیگا تو اس سے اسلامی نظام کے حقیقی نفاذ کی راہ بھی ہموار ہو جائیگی تاہم طاقت اور بندوق کے زور پر نفاذ اسلام کا تصور کبھی حقیقت میں نہیں ڈھالا جا سکتا بلکہ اس تصور کے تحت انتہاءپسندانہ اور متشددانہ رویوں کے عملی مظاہرے کرکے مغربی معاشرے اور لادین قوتوںکو دین اسلام کے بارے میں غلط پراپیگنڈا کا موقع ضرور فراہم کیا جاتا ہے چنانچہ مولانا فضل الرحمان کا علماءکرام کو پارلیمانی جمہوری نظام کے تابع پارلیمنٹ میں اپنے کردار کیلئے قائل کرنا اور خود کو اسکی عملی مثال بنا کر پیش کرنا قابل ستائش اقدام ہے۔ اگرچہ انکے طرز سیاست پر بعض حلقوں کی جانب سے انگلیاں بھی اٹھائی جاتی ہیں تاہم انگلیاں اٹھانے والے خود بھی ایسی سیاست کے ہی اسیر ہوتے ہیں اس لئے مولانا فضل الرحمان کا طرز سیاست اور پارلیمنٹ میں انکی موجودگی نظام اسلام اور جمہوریت کے ساتھ عوام کی وابستگی کیلئے ”ٹرینڈسیٹ“ کی صورت میں اجاگر ہو رہی ہے جس کے کریڈٹ کے بھی وہی مستحق ہیں۔