پی پی پی ن لیگ تحمل اور مفاہمت سے کام لیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
پی پی پی ن لیگ تحمل اور مفاہمت سے کام لیں

شرجیل میمن اڑھائی گھنٹے بعد رہا‘ نیب نے گرفتار نہیں‘ اغوا کیا‘ وفاقی اداروں نے رویہ نہ بدلا تو سندھ سے بوریا بستر گول کر دیں گے۔
شرجیل میمن کی ضمانت ہو چکی تھی۔ اس کا نیب سمیت متعلقہ اداروں کو یقیناً علم ہو گا۔ ان کو اس طرح گرفتار کیا گیا ہوتا جو نیب اور اداروں کا طریقہ کار ہے تو ہتھکڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ۔ پیپلز پارٹی کے معزز رکن صوبائی اسمبلی اداروں کو مطلوب تھے جو عرصہ بعد پاکستان آئے۔ ہو سکتا ہے ابتدائی معلومات کیلئے نیب حکام ان کو ساتھ لے گئے ہوں اور ضابطے کی کارروائی کے بعد ان کو چھوڑ دیا گیا۔ اگر کچھ غیر قانونی کیا گیا تھا تو اسکے خلاف مجاز عدالت سے رجوع کرنا ہی بہتر حکمت عملی تھی۔ اب عدالت کی جانب سے ضمانت کی صورت میں انہیں ریلیف مل گیا ہے اور ان کیخلاف کوئی دوسرا غیرقانونی اقدام ہوا ہوگا تو اس کا بھی انصاف کی عملداری سے ازالہ ہو سکتا ہے اس لئے کسی کیخلاف قانونی کارروائی پر سیاست ہرگز نہیں کی جانی چاہیے جبکہ پیپلزپارٹی ڈاکٹر عاصم حسین کی طرح اب شرجیل میمن پر بھی سیاست کرتی نظر آتی ہے۔ رحمن ملک نے انکی مبینہ گرفتاری پر کہا کہ جیالا ڈرتا نہیں ہے۔ شرجیل کون سی لنکا ڈھانے بیرون ملک گئے تھے۔ ذرا ان حالات کو مدنظر رکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ بیرون ملک جانے کی کیا وجہ تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ زیادہ ہی جذبات میں آ گئے۔ اداروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ن لیگ اور پی پی پی کے کچھ لیڈروں کی بیان بازی سے سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ سابق صدر آصف زرداری کو چار سال بعد خیال آیا کہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کےخلاف سازش ہوئی تھی۔ ایک طرف وہ نواز شریف کی حکومت بچانے کےلئے انکے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں دوسری طرف کہتے ہیں انکی حکمرانی کا جواز نہیں جبکہ خود نوازشریف پی پی پی کےلئے سخت لب و لہجہ استعمال نہیں کرتے۔ تاہم دیگر لیڈر اینٹ کا جواب پتھر سے دیکر سیاسی ماحول کو خراب اور کشیدہ کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی تھوڑا خاموش ہوئی ہے تو پی پی پی نے غلغلہ پیدا کر دیا ہے جبکہ پاکستان کو اندرونی دہشت گردی اور سرحدوں پر دشمن کی جارحیت کا سامنا ہے‘ ان حالات میں اتحاد‘ یگانگت اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ سیاسی لیڈرشپ کو اس کا ادراک کرنا چاہئے۔