روسی فیڈریشن سے تعلقات بڑھانے اور بھارت سے ہوشیار رہنے کی ضرورت

ایڈیٹر  |  اداریہ
روسی فیڈریشن سے تعلقات بڑھانے اور بھارت سے ہوشیار رہنے کی ضرورت

تاتارستان کے صدر رستم میخانوف اور ان کے ساتھ آئے وفد کا پُرجوش استقبال کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان اور روس کے مابین تعلقات بڑھانے کیلئے ہرممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
سی پیک کی تعمیر اور گوادر پورٹ کے فنکشنل ہونے سے پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو رہا ہے۔ یہ منصوبے پاکستان کے جتنے مفاد میں ہیں‘ بھارت کیلئے اتنے ہی ناگوار اور ناقابل برداشت ہیں۔ وہ ان کی شدید مخالفت اور ناکامی کیلئے ہرممکنہ حربے‘ ہتھکنڈے اور سازشیں رچا رہا ہے۔ وسط ایشیائی ریاستیں اور رشین فیڈریشن ان منصوبوں میں دلچسپی لے رہی ہے۔ تاتارستان نے پنجاب حکومت کے ساتھ سرمایہ کاری و تعاون کے معاہدے کئے ہیں۔ روس پاکستان کے قریب آرہا ہے‘ وہ گوادر پورٹ کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس نے پاکستان کےساتھ بھارت کے شدید دباﺅ کو مسترد کرتے ہوئے دو فوجی مشقوں میں حصہ لیا۔ پاکستان اور روس کے درمیان دفاع اور تجارت کے معاہدے ہو چکے ہیں۔ دونوں میں قربت اور تعاون بڑھ رہا ہے جس کی موجودہ حالات میں اشد ضرورت ہے۔ اس کیساتھ ساتھ بھارت سے ہوشیار بھی رہنا ہوگا۔ بھارتی وفد سندھ طاس معاہدے پر مذاکرت کیلئے پاکستان آیا ہے۔ قومی کسان کانفرنس کی طرف سے بجا طورپر کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ریگستان نہیں بننے دینگے۔ بھارت اور اسکے وفد سے خیر کی توقع نہیں ہے۔ اسکے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔