ڈی جی رینجرز کے اختیارات پر تحفظات

ایڈیٹر  |  اداریہ
ڈی جی رینجرز کے اختیارات پر تحفظات

ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ رضوان اختر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک نظام درست نہیں ہوتا امن و امان میں بہتری ناممکن ہے۔ سندھ حکومت کی طرف سے رینجرز کو دئیے گئے اختیارات کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ مجرم پکڑے جاتے ہیں مگر مناسب کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹ جاتے ہیں۔
گزشتہ سال ستمبر میں مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت نے کراچی کا امن بحال کرنے کیلئے تمام پارٹیوں کو اعتماد میں لے کر رینجرز کی قیادت میں اپریشن کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر ڈی جی رینجرز نے کہا تھا کہ اختیارات دئیے جائیں تو ایک ماہ میں کراچی کا امن بحال کر دیں گے۔ آج اپریشن شروع ہوئے چھ ماہ ہو گئے کراچی میں بدستور ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتیں جاری ہیں۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ سندھ حکومت نے اپنے وعدے کے برعکس پولیس کے تبادلے کرنا شروع کر دئیے جس پر رینجرز نے اعتراض کیا۔ اب ڈی جی رینجرز کی طرف سے عدم اختیارات کی بات سامنے آئی ہے وہ سسٹم کی درستی اور غیر قانونی سمز بند کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ چھ ماہ میں حالات میں بہتری نہ آنا اپریشن کرنے والوں کی اہلیت کو ظاہر نہیں کرتا تاہم حکومت نے رینجرز کو مطلوبہ اختیارات دئیے ہوتے تو آج ان کے پاس ایک ماہ میں کراچی کا امن بحال نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہ ہوتا۔ رینجرز کو اختیارات نہ دینا حکومت کی سیاسی مصلحتوں کا شاخسانہ ہو سکتا ہے اگر حکومت کراچی میں واقعتاً امن چاہتی ہے تو اسے سیاسی دبائو سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ دوسری صورت میں بے گناہ افراد مرتے اور مجرم دندناتے رہیں گے۔