نیویارک ٹائمز کا بغیر دلیل کے دعویٰ

ایڈیٹر  |  اداریہ
نیویارک ٹائمز کا بغیر دلیل کے دعویٰ

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں جہاں اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا آئی ایس آئی کو علم ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے وہاں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2009ء میں اسامہ بن لادن پاکستان کے مختلف شہروں میں گھومتا رہا اور اس کا کانوائے سکیورٹی چیک پوسٹس سے آسانی سے گزر جاتا تھا۔
امریکی خاتون صحافی شارلٹ گال کی نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی رپورٹ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ شارلٹ گال نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا ہے۔اس وقت فوج کا سربراہ امریکہ کا معتمد خاص پرویز مشرف تھا، پرویز مشرف نے امریکی جنگ میں شریک ہو کر پاکستان کو غیر محفوظ کر دیا تھا۔ مشرف دور میں امریکیوں کو پاکستان میں وائسرائے کا درجہ حاصل ہوتا تھا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کو اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کی خبر ہی نہ ہو مگر شارلٹ گال تک وہ خبر پہنچ جائے۔ انٹیلی جنس حکام نے بھی اس رپورٹ کو من گھڑت قرار دیا ہے‘ اس کی تردید کر چکے ہیں اور تب کے ڈی جی آئی ایس پی آر راشد قریشی نے بھی کہا ہے کہ خبر میں صداقت نہیں ہے۔ خبر میں دلچسپ دعویٰ ہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد گھر سے اسامہ اور حافظ سعید کے درمیان مستقل روابط کا ثبوت ملا ہے اگر اس الزام کو ثابت کیا جا سکتا ہے تو اسکے شواہد پیش کئے جائیں۔