ٹرائیکا کا امن و امان کیلئے اتفاق‘ لیکن ایکشن؟

صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم اور آرمی چیف پر مشتمل ٹرائیکا نے ہونے والی ایک ملاقات میں ملک بھر اور خصوصاً بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور بلوچستان میں گورنر راج ختم کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ ملکی حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ ہر طرف قتل و غارت جاری ہے۔ ٹرائیکا نے ملاقات میں امن و امان قائم کرنے پر ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے ساتھ ہی بلوچستان حکومت کی بحالی اور گورنر راج ختم کرنے کا بھی گرین سگنل دیا گیا ہے۔ ہزارہ برادری پر جب پہلے حملہ ہوا تھا تب اگر حکومت اور فوج سنجیدگی سے خونی لشکروں کیخلاف آپریشن منعقد کرتی تو یہ سانحہ پیش نہ آتا۔ اب یکے بعد دیگرے دو بڑے سانحے ہو چکے ہیں لیکن اب بھی دہشت گردوں سے نمٹنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ ہماری ایجنسیاں ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہی نہیں حالانکہ لاکھوں روپے تنخواہیں لینے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرائض کو پورا نہیں کر سکے۔ کوئٹہ کا سانحہ ہوئے تین دن گزر چکے ہیں حکومت کو اب تک پورے بلوچستان میں ٹارگٹڈ آپریشن کر لینا چاہئے تھا لیکن کچھ علاقے کے علاوہ حکومت نے ابھی تک کسی بھی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہیں کیا۔ حکومت پورے ملک میں دھماکہ خیز مواد کی نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کرے۔ صدر وزیراعظم اور آرمی چیف کو اب پوری کوشش سے امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا چاہئے۔ اپوزیشن اور مذہبی جماعتوں کو مل بیٹھ کر امن و امان کیلئے کام کرنا چاہئے۔ یہ ملکی سلامتی کیلئے بہت ضروری ہے۔