مسئلہ کشمیر و فلسطین کے حل کیلئے عرب ممالک اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں

فلسطینی صدر محمود عباس نے وقت ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل کریں۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حل اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور پاکستانی حمایت پر اظہار تشکر کیا۔ فلسطینی صدر نے بھارت اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کا صائب مشورہ دیا ہے۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان گذشتہ 65 برسوں سے اپنے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کوششیں کرتا رہا ہے۔ اس پر 3 مرتبہ دونوں ممالک میں جنگ بھی ہو چکی مگر بھارتی ہٹ دھرمی اور کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کی ناروا پالیسی کی وجہ سے یہ مذاکرات کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے جب بھی پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کا اہتمام کرتے ہیں یا اس بات چیت کو آگے بڑھاتے ہیں کسی نہ کسی بہانے سے بھارت خود بات چیت کی اس کوشش کو سبوتاژ کر دیتا ہے اور معاملہ واپس وہاں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔تقریباً ایسی ہی صورتحال خود فلسطین کو درپیش ہے جہاں آج تک اسرائیل فلسطینیوں کو ان کے مقبوضہ علاقے واپس کرنے سے انکاری ہے اور بیت المقدس و قبلہ اول کی آزادی کا معاملہ امت مسلمہ کے لئے سوہان روح بنا ہوا ہے اور عالمی برادری اور اقوام متحدہ ان دونوں مسائل کے حل میں ابھی تک ناکام رہی ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ان دونوں دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لئے امت مسلمہ اور خاص طور پر عرب ممالک کو جو تیل کی دولت سے مالامال ہیں اور عالمی معیشت کے استحکام میں ان کی دولت کا بڑا ہاتھ ہے انہیں اپنے اثر رسوخ کے ساتھ تیل اور دولت کی طاقت استعمال کرنا ہو گی تب جا کر عالمی برادری اسرائیل اور بھارت کو ان دونوں مسائل کو حل کرنے کے لئے مجبور کر سکتی ہے۔ ورنہ ” مذاق رات“ کا ڈرامہ دونوں ممالک عرصہ دراز سے رچاتے رہے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔