الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذات نامزدگی میں 15 اہم ترامیم کی منظوری

شیڈول کا فوری اعلان کرکے صدر انتخابات کے انعقاد میں ابہام دور کریں
 الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی میں 15ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ امیدواروں کو اپنے اثاثے، گزشتہ تین برسوں کی آمدن اور ٹیکس کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرانی ہونگی۔ چھ صفحات پر مشتمل کاغذات نامزدگی میں 3 برسوں کے دوران بیرون ملک دوروں کی تفصیلات، بچوں سمیت زیر کفالت افراد کے اخراجات کی تفصیلات سمیت گھر کی مالیت اور ایک سے زائد انکم کے ذرائع بھی ظاہر کرنے ہونگے۔ اگر کوئی امیدوار خیراتی ادارہ چلا رہا ہے اسکے بارے میں مکمل تفصیلات دینا پڑیں گی۔ الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی الیکشن شیرافگن نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں 15 ترامیم منظوری کیلئے وزارت قانون کو بھجوا دی گئیں امیدواروں کی طرف سے دی جانیوالی تفصیلات کی سکروٹنی کیلئے ایف بی آر اور سٹیٹ بنک سے پہلے ہی طریقہ کار طے کر لیا گیا ہے۔ امیدواروں کو یوٹیلٹی بل اور ایسے قرضوں کی تفصیلات بھی دینی ہو گی جو معاف کرائے گئے ہوں۔ سابق ارکان اسمبلی کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ انہوں نے 5 سال میں حلقے کیلئے کیا کیا۔ کاغذات نامزدگی کے ساتھ اہلخانہ کی مکمل تفصیلات دینا ہو گی۔ یہ بھی بتانا ہو گا کہ پارٹی ٹکٹ کیلئے رقم دی یا لی۔ امیدوار کو غیر ملکی پاسپورٹ سے متعلق بھی بتانا ہو گا اگر امیدوار کے بچے بیرون ملک ہیں تو انکے بارے میں بھی آگاہ کرنا ہو گا۔ انتخابات کے عمل کو شفاف‘ منصفانہ اور غیرجانبدارانہ بنانے کی اولین ذمہ داری الیکشن کمیشن ہی کی ہے‘ جس میں نگران حکومت اسکی معاونت کریگی۔ آج کا الیکشن کمیشن جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے میں مستعد اور فعال ہے۔ انتخابی قوانین اور ضوابط تو ہمیشہ سے موجود رہے ہیں‘ لیکن ان پر عمل میں کوتاہیاں ہونے کے باعث پارلیمنٹ میں وہ لوگ بھی پہنچ جایا کرتے تھے جو الیکشن کیلئے کوالیفائی ہی نہیں کرتے۔ 2002ءکے انتخابات سے قبل اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے صدارتی آرڈی نینس کے ذریعے انتخابات میں حصہ لینے والوں کیلئے گریجوایشن کو لازم قرار دیا‘ الیکشن کمیشن کی طرف سے مکمل سکروٹنی نہ ہونے کے باعث کئی لوگ جعلی ڈگریوں پر الیکشن لڑ کر اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔ ہر امیدوار نے آئین ازبر نہیں کیا ہوتا‘ آئین کی انتخابات سے متعلقہ شقوں سے امیدواروں کو آگاہ کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمیشن کی نااہلی ملاحظہ ہو کہ دہری شہریت والوں کو آگاہ ہی نہیں کیا گیا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ آج ایسے ارکان پارلیمنٹ کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ ان کو نااہل کیا جا رہا ہے اور جو مراعات لے چکے‘ انکی واپسی کے بھی احکامات مل رہے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 63, 62 تو بالکل واضح ہے اسی میں دہری شہریت سمیت امیدوار کی اہلیت اور نااہلیت کا تذکرہ ہے جس پر الیکشن کمیشن عمل کرانے میں ناکام رہا۔ بعض امیدواروں کا موقف ہے کہ انہیں تو آئین کی مذکورہ دفعات کا علم ہی نہیں تھا جس کے باعث جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں الیکشن کمیشن نے امیدواروں کو انکی اہلیت کے حوالے سے آگاہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ انتخابات کو شفاف بنانے اور پارلیمنٹ میں اچھے کردار کے لوگوں کی آمد کو یقینی بنانے کیلئے الیکشن کمیشن کی طرف سے کاغذات نامزدگی میں 15 ترامیم کی منظوری اہم ترین اقدام ہے۔ قوانین بنانے سے بھی اہمیت ان پر عملدرآمد کی ہوتی ہے۔ ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ قوانین پر عموماً عمل نہیں ہوتا۔ آئین اور قانون کو بااثر حلقے اور شخصیات موم کی ناک بنا لیتی ہیں۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی موجودگی میں کم از کم انتخابی قوانین کے حوالے سے ایسا ہوناممکن دکھائی نہیں دیتا۔ الیکشن کمیشن کی کاغذات نامزدگی میں کی گئی مذکورہ ترامیم کے بعد اعلیٰ اوصاف کے حامل افراد ہی پارلیمنٹ کا حصہ بن سکیں گے۔ کسی پر ٹیکس چوری‘ لوٹ مار‘ دہری شہریت‘ دھوکہ دہی اور جعلی ڈگری رکھنے کا الزام نہیں ہو گا۔ موجودہ حکومت کے ابتدائی دور میں سپریم کورٹ نے گریجوایشن کی شرط ختم کر دی تھی لیکن 2002ءاور 2008ءکے انتخابات میں اپنے کاغذات کے ساتھ جعلی ڈگری لگانے والوں کی دیانت مشکوک ٹھہرے گی اور وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہونگے۔ الیکشن کمیشن نے امیدواروں سے جواب معلومات طلب کرنے کیلئے ترامیم کی ہیں‘ کسی امیدوار نے ان میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کی تو وہ اس آئین کے آرٹیکل 63, 62 کی زد میں آکر انتخابات میں حصہ لینے سے محروم رہے گا یا منتخب ہونے کے بعد نااہل ہو جائیگا۔ انتخابات کو شفاف بنانے میں الیکشن کمیشن سے نگران حکومت کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ اداروں کو بھی تعاون کرنا ہو گا۔ مروجہ جمہوریت سے لوگوں کا یقین اٹھتا جا رہا ہے۔ لوگ اس سے بدظن ہو رہے ہیں حالانکہ اس میں جمہوریت کا کوئی قصور نہیں۔ قصور ان لوگوں کا ہے جو جمہوریت کے نام پر اپنے مفادات کی سیاست کرتے ہیں۔ ان سے نجات انتخابی عمل کو شفاف بنا کر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت ختم ہونے میں محض تین ہفتے باقی ہیں‘ شیڈول کا اعلان نہ ہونے کے باعث انتخابات کے انعقاد میں ابہام پایا جاتا ہے۔ ایک کینیڈین شہری پورے ملک میں دندناتے ہوئے تین سال کے عبوری سیٹ اپ کی باتیں کر رہا ہے‘ کچھ حکومتی حلقے بھی ملکی حالات میں خرابی کو جواز بنا کر انتخابات کے التوا کا تاثر دیتے رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ نگار بھی انتخابات کے بروقت انعقاد پر مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ پیرپگارا نے بھی کہا ہے کہ موجودہ حالات میں الیکشن کی صورت نظر نہیں آتی۔ حکومت انتخابات کے انعقاد میں ابہام کو دور کرے‘ وہ اسی صورت ممکن ہے کہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری فوری طور پر انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کریں۔ نگران حکومت کا اعلان آئین کے مطابق اپوزیشن کے اتفاق رائے سے انکی پارٹی کی حکومت بے شک چند دن بعد کر دے۔