عدل گستری میں اب بہرصورت ’’جج نہیں‘ فیصلے بولتے ہیں‘‘ کی عملداری ہونی چاہیے

ایڈیٹر  |  اداریہ
عدل گستری میں اب بہرصورت ’’جج نہیں‘ فیصلے بولتے ہیں‘‘ کی عملداری ہونی چاہیے

پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کا یادگار اکثریتی فیصلہ‘ انکوائری کیلئے جے آئی ٹی کی تشکیل اور دو فاضل ججوں کے اختلافی نوٹ

سپریم کورٹ کے وسیع تر بنچ نے وزیراعظم میاں نوازشریف اور انکے اہل خانہ کیخلاف تاریخی پانامہ کیس کا تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے میاں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کا اہل قرار دے دیا اور پانامہ کیس کی تحقیقات کے معاملہ میں چیئرمین نیب کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پانامہ کیس کی مزید تحقیقات کیلئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کے احکام صادر کردیئے جو ایف آئی اے‘ سٹیٹ بنک‘ نیب‘ ایس ای سی پی‘ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ایک ایک نمائندے پر مشتمل ہوگی۔ فاضل عدالت نے اس سلسلہ میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر جے آئی ٹی میں اپنا نمائندہ نامزد کردیں۔ فاضل عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف اور انکے صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز خود جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونگے۔ جے آئی ٹی ہر دو ہفتے بعد اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ کے سپیشل بینچ کے روبرو پیش کریگی اور ساٹھ دن کے اندر اندر اپنی تحقیقات مکمل کریگی۔
وسیع تر بینچ کا یہ فیصلہ اکثریت رائے سے صادر کیا گیا جس میں تین فاضل ججوں مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید‘ مسٹر جسٹس اعجاز افضل اور مسٹر جسٹس اعجازالحسن نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ صادر کیا جبکہ بینچ کے سربراہ مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ اور مسٹر جسٹس گلزار احمد نے فیصلہ میں اپنے اختلافی نوٹ تحریر کئے اور اس رائے کا اظہار کیا کہ کیس میں سامنے آنیوالے حقائق و شواہد کی روشنی میں میاں نوازشریف صادق اور امین نہیں رہے اس لئے وہ وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے اہل نہیں ہیں۔ لارجر بینچ کے اکثریتی فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ یہ کیس مزید تحقیقات کا متقاضی ہے کیونکہ چیئرمین نیب اس کیس میں تحقیقات کے معاملہ میں غیررضامند پائے گئے ہیں جو اپنا کام کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اسی طرح ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بھی وائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات میں ناکام رہے ہیں۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ اس کیس میں یہ امر تحقیقات کا متقاضی ہے کہ رقم قطر کیسے گئی‘ اس مقصد کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 540 صفحات پر مشتمل لارجر بینچ کا یہ فیصلہ مسٹر جسٹس اعجاز افضل نے جمعرات کی سہہ پہر ٹھیک دو بجے پڑھ کر سنایا‘ اس وقت کورٹ روم حاضرین سے کھچا کھچ بھرا تھا اور عمران خان‘ سراج الحق‘ شیخ رشید احمد اور وفاقی وزراء سمیت اہم ترین حکومتی عہدیداران اور حکومتی و اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وکلاء اور سیاسی کارکنان اپنے اپنے جذبات کے ساتھ کمرۂ عدالت میں موجود تھے جنہوں نے فیصلہ صادر ہونے کے بعد کمرۂ عدالت کے باہر اپنی اپنی پریس بریفنگ میں گوعمران گو اور نوازشریف استعفیٰ دو کے نعرے لگائے۔
پانامہ لیکس کی بنیاد پر وزیراعظم اور انکے اہل خانہ کیخلاف تحقیقات کیلئے آئین کی دفعہ 184 کے تحت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان‘ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کے روبرو دو مراحل میں اس کیس کی سماعت ہوئی جو 127 روز تک چلی۔ پہلے مرحلہ میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے وسیع تر بینچ نے اس کیس کی سماعت کی اور تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر اتفاق کیا تاہم عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل مسترد کردی اور سڑکوں پر آنے کا اعلان کردیا۔ اسی دوران فاضل چیف جسٹس اپنے منصب ریٹائر ہوگئے چنانچہ اس کیس کی سماعت میں بینچ ٹوٹنے کے باعث تعطل پیدا ہوگیا اور پھر مسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد پانامہ کیس کی ازسرنو سماعت کیلئے مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی نیا بینچ تشکیل دیا جس نے تمام فریقین اور حکومت کا موقف سننے اور دوران سماعت فریقین کی جانب سے پیش کی جانیوالی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا اور یہ ریمارکس دیئے کہ عدالت ایسا فیصلہ صادر کریگی جسے لوگ 20 سال تک یاد رکھیں گے۔ عدالت کے روبرو 57 دن تک فیصلہ محفوظ رہا جو جمعرات کی سہ پہر دو بجے صادر کیا گیا۔ اگرچہ اس اکثریتی فیصلہ میں میاں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کا اہل قرار دیا گیا ہے تاہم عمران خان اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے چیئرمین آصف علی زرداری دونوں نے میاں نوازشریف سے مستعفی ہونے کا تقاضا کیا جن کے بقول عدالت عظمیٰ کے اکثریتی فیصلہ اور دو فاضل ججوں کے اختلافی نوٹ کی بنیاد پر میاں نوازشریف کے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہا۔ اس کیس میں عمران خان کے سابق وکیل حامد خان تو وقت ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے اکثریتی فیصلہ پر مایوسی کا اظہار کرتے نظر آئے جن کے بقول جے آئی ٹی میں شامل تمام ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہیں اس لئے ان سے میاں نوازشریف کیخلاف فیصلہ دینے کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کی بھی یہی رائے سامنے آئی ہے کہ میاں نوازشریف کو اب خود ہی گھر چلے جانا چاہیے۔ عمران خان کے ترجمان فوادچودھری کے خیال میں وزیراعظم نوازشریف کو اس فیصلہ سے 67 دن کی زندگی ملی ہے جس کے بعد انہوں نے بہرصورت وزارت عظمیٰ کے منصب سے فارغ ہونا ہے۔ اسکے برعکس مسلم لیگ (ن) کے قائدین‘ عہدیداران اور دوسرے ذمہ داران عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ کو حق و انصاف کی فتح قرار دیتے رہے۔ اس سلسلہ میں وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف‘ خواجہ سعدرفیق‘ احسن اقبال‘ مریم اورنگزیب اور انوشہ رحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے خود پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو مراسلہ بھجوا کر ان سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی تھی اس لئے عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی تشکیل دے کر درحقیقت وزیراعظم کی درخواست قبول کی ہے جبکہ ہم ہر قسم کی تفتیش کیلئے تیار ہیں اور عدالتی احکام کی تعمیل کرتے ہوئے وزیراعظم اور انکے بچے جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونگے۔ انکے بقول عمران خان سیاست میں بھی مینارٹی میں ہیں اس لئے انہیں عدالت عظمیٰ کے روبرو بھی منیارٹی ججمنٹ ملی ہے جبکہ اکثریتی فیصلہ کے تحت آج میاں نوازشریف‘ انکی ٹیم‘ مسلم لیگ (ن) اور اسکے کروڑوں ووٹروں سمیت پوری قوم سرخرو ہوئی ہے‘ اب 2018ء میں عوامی عدالت لگے گی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران پوری قوم ہیجان کی کیفیت میں مبتلا رہی ہے ‘ بالخصوص اس حوالے سے کہ کرپشن فری معاشرے کی تشکیل قوم کا مطمعٔ نظر ہے جس کیلئے اس نے پانامہ کیس کے ساتھ توقعات وابستہ کیں اور کیس کی سماعت مکمل ہونے تک اس حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے آراء اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ برقرار رہا جبکہ کیس کی سماعت کے دوران بینچ کے فاضل ارکان کی جانب سے دیئے جانیوالے ریمارکس سے بھی مختلف حلقوں بالخصوص درخواست دہندگان کو میاں نوازشریف کے نااہل قرار پانے کی توقعات وابستہ ہوئیں۔ کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد قوم طویل انتظار کی سولی پر لٹکتی رہی ہے جبکہ اس دوران عمران خان‘ سراج الحق اور پیپلزپارٹی کے قائدین نے حکومت کیخلاف پوائنٹ سکور کرنے کی سیاست خوب چمکائی اور فیصلہ صادر ہونے سے پہلے تک اتنی دھماچوکڑی مچائی گئی کہ میاں نوازشریف کا اقتدار ایک پل اور چند لمحوں کا مہمان نظر آتا رہا جبکہ فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد لارجر بینچ کے ایک فاضل رکن نے کسی دوسرے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ صدیوں تک یاد رکھا جائیگا۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ذریعے حکومت سے اختلاف رائے رکھنے والے حلقوں بالخصوص درخواست گزار جماعتوں کا میاں نوازشریف کے وزارت عظمیٰ سے فارغ ہونے کی توقع وابستہ کرنا فطری امر تھا۔ انصاف کی عملداری کے حوالے سے جسٹس ایم آر کیانی کا یہ قول عدلیہ کیلئے گائیڈلائن کی حیثیت رکھتا ہے کہ عدالتیں نہیں‘ انکے فیصلے بولتے ہیں۔ اس قول میں یہی حکمت ہے کہ اگر عدالت کا فیصلہ دوران سماعت اسکے دیئے گئے ریمارکس کے برعکس آئے تو اس سے عوام میں انصاف کے بول بالا کے حوالے سے مایوسی پیدا ہوتی ہے اور عدل گستری کے معاملہ میں ان کا منفی ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے۔ پانامہ کیس میں عدالت عظمیٰ کے فاضل بینچ نے بے شک انصاف اور قانون کے تقاضوں کے عین مطابق اور آئین کی دفعہ 184(3) میں متعینہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے فیصلہ صادر کیا ہے جس میں وزیراعظم کو کلین چٹ ہرگز نہیں دی گئی بلکہ جے آئی ٹی تشکیل دے کر انہیں بدستور ملزمان والے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے جس سے یقیناً یہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ وزیراعظم سمیت کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں اور وہ بے ضابطگی‘ کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر قانون اور انصاف کے اداروں کے سامنے جوابدہ ہے۔ اس سے یقیناً کرپشن فری معاشرے کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی جس کے عوام متقاضی ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے پانامہ کیس میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تاریخی اور یادگار ہے جس کیلئے بینچ کے فاضل ارکان کو دوران سماعت اور فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد باور کرانے اور ریمارکس دینے کی قطعاً ضرورت نہیں تھی جبکہ ان ریمارکس کے باعث ہی درحقیقت درخواست گزار پارٹیوں نے سیاسی ماحول مکدر کیا جو پہلے ہی حکومت کو گرانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں۔
یہ امر واقع ہے جس کی معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ نے بھی نشاندہی کی ہے کہ آئین کی دفعہ 184(3) کے تحت عدالت عظمیٰ کے متعینہ دائرہ کار میں کسی انکوائری کیس میں عدالت عظمیٰ کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کر سکتی اور اسے انکوائری کیلئے کیس کو کسی تحقیقاتی ادارے کو ریفر کرنا ہوتا ہے۔ اس تناظر میں آئینی حلقوں کی یہ رائے درست نظر آتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کو اس کیس کو طول نہیں دینا چاہیے تھا اور ابتدائی سماعتوں میں ہی اس کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل یا انکوائری کمیشن تشکیل دے دینا چاہیے تھا جس کا وزیراعظم نوازشریف نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھجوائے گئے اپنے مراسلہ میں تقاضا بھی کیا تھا جبکہ سابق چیف جسٹس مسٹر جسٹس انورظہیر جمالی اس کیس کی سماعت کے دوران خود بھی اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینا ضروری ہے۔ بے شک عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کو قبول نہ کیا مگر ان کا کام محض اپنی سیاست چمکانا ہے جبکہ عدالت نے بہرصورت قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں جیسا کہ گزشتہ روز صادر ہونیوالے پانامہ کیس کے فیصلہ میں کیا گیا ہے۔ اگر یہی کام جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم عدالت عظمیٰ کے بنچ کی جانب سے بھی کرلیا جاتا تو اس کیس کے حوالے سے حکومت مخالفین کی جانب سے اپنے اپنے مفادات کے تحت جتنی گرد اڑائی گئی ہے‘ اسکی شاید نوبت ہی نہ آتی اور اب تک کرپشن فری معاشرے کی جانب کتنے ہی قدم اٹھ چکے ہوتے۔
اب عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر ہر فریق اپنی اپنی خواہشات ‘ خوشیوں اور مایوسیوں کی مناسبت سے آراء کا اظہار کررہا ہے جن میں عدل گستری ماضی کی روایات کی روشنی میں تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ عدلیہ سے نوازشریف کیخلاف کوئی فیصلہ صادر کرنے کی انہیں توقع ہی نہیں ہے جبکہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق اس فیصلہ کو آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور عمران خان ’’سپریم کورٹ کے فاضل ججوں کو سلام پیش کرتا ہوں‘‘ کے الفاظ ادا کرتے ہوئے اپنی باڈی لینگوئج کے ذریعہ واضح طور پر اس فیصلہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے نظر آئے ہیں جن کے بقول ایسے فیصلہ کی نوبت بھی انکے کارکنوں کے سڑکوں پر نکلنے کے باعث آئی ہے۔ اس صورتحال میں عدل گستری کیلئے یہ لمحۂ فکریہ ضرور ہے کہ اسے بہرصورت ’’جج نہیں‘ انکے فیصلے بولتے ہیں‘‘ کے زریں اصول کو فالو کرنا چاہیے۔
اب جبکہ پانامہ کیس کے منطقی انجام کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے واضح لائن آف ایکشن دی جا چکی ہے اس لئے فریقین کی جانب سے اس فیصلہ کو اپنی جیت یا ہار سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے اور انصاف کے بول بالا کیلئے عدالتی احکام کی تعمیل میں جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ 2018ء کے انتخابات کی تیاری بھی شروع کر دینی چاہیے کیونکہ عوام کی عدالت نے ہی بہرصورت انکے معاملات میں بہتر فیصلہ کرنا ہے۔ حکمران جماعت اور اسکے قائدین عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر خوشیاں منانے اور مٹھائیاں بانٹنے کے بجائے عوام کے دل جیتنے کی کوشش کریں جو اپنے روٹی روزگار بالخصوص توانائی کے بحران کے پیدا کردہ گھمبیر مسائل سے عملاً عاجز آئے ہوئے ہیں۔