گراں خواب چینی سنبھل گئے‘ ہم بھی ستاروں پر کمند ڈال سکتے ہیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
گراں خواب چینی سنبھل گئے‘ ہم بھی ستاروں پر کمند ڈال سکتے ہیں

آج یوم اقبال پر ہمیں پاکستان کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کرنے کا عزم کرنا ہوگا

شاعرِ مشرق، مفکرِ اسلام اور مصورِ پاکستان علامہ اقبال کا 77واں یومِ وفات آج انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اسلامیانِ پاکستان اور کشمیری عوام کے علاوہ بھارت، ایران، افغانستان، ترکی،برطانیہ، جرمنی اور دوسرے ممالک میں مقیم اقبال کے عقیدت مند انہیں مختلف تقاریب کے ذریعے ہدیۂ عقیدت و محبت پیش کرینگے اور مسلم اُمہ کے اتحاد و یگانگت کیلئے اقبال کی سوچ پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اعادہ کرینگے۔ عقیدت مندانِ اقبال آج لاہور میں مزارِ اقبال پر حاضری دیکر انکی روح کو ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کرینگے اور ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں مانگیں گے۔ اقبال کے یومِ وفات پر آج مزارِ اقبال پر گارڈ کی تبدیلی کی پُروقار تقریب بھی منعقد ہو گی جبکہ ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان میں آج صبح ساڑھے دس بجے نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے زیر اہتمام یومِ اقبال کی ایک خصوصی تقریب بھی منعقد ہو گی ہر سال جناب مجید نظامی ایسی تقریبات کے روح رواں ہوا کرتے تھے۔ آج کی تقریب میں مرحوم کی غیرموجودگی شدت سے محسوس کی جائیگی۔
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال برصغیر کی ان جلیل القدر ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس خطے کے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کیلئے جداگانہ قومیت کا احساس اُجاگر کیا اور الگ وطن کا تصور دیا۔ انہوں نے انگریز اور ہندو کی سیاسی اور اقتصادی غلامی میں جکڑے ہوئے مسلمانانِ ہند کی کسمپرسی اور کم مائیگی کا احساس کرتے ہوئے ان کیلئے ایک الگ خطۂ ارضی کی ضرورت محسوس کی اور صرف اس پر ہی اکتفاء نہ کیا بلکہ اپنے خطبۂ الٰہ آباد میں مسلمانوں کی الگ مملکت کا پورا نقشہ پیش کر دیا اور پھر ایک دردمند مسلم لیگی قائد کی حیثیت سے قائداعظم محمد علی جناح کو جو انگریز اور ہندو کی غلامی میں جکڑے مسلمانوں کی حالتِ زار سے مایوس ہو کر مستقل طور پر لندن کوچ کر گئے تھے‘ خط لکھ کر واپس آنے اور اسلامیانِ ہند اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کیلئے قائل کیا‘ چنانچہ قائداعظم نے ہندوستان واپس آکر حضرت علامہ کی معیت اور گائیڈ لائن میں مسلمانانِ برصغیر کو انگریز کی سیاسی غلامی کے ساتھ ساتھ متعصب ہندو بنیئے کی اقتصادی غلامی سے بھی نجات دلانے کی جدوجہد کا آغاز کیا‘ تاہم حضرت علامہ کی عمر عزیز نے وفا نہ کی اور وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر برصغیر کے مسلمانوں کی آزاد اور خودمختار مملکت کیلئے 23 مارچ 1940ء کو منظور ہونیوالی قرارداد لاہور سے دو سال پہلے ہی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے جن کے بعد قائداعظم نے اقبال کے خطبۂ الٰہ آباد میں پیش کئے گئے تصورِ پاکستان کو سات سال کے مختصر عرصے میں اپنی پُرامن جمہوری جدوجہد کے ذریعے اسلامیانِ ہند کی معاونت سے حقیقت کے قالب میں ڈھال دیا۔ اس تناظر میں علامہ اقبال لیڈر شناس بھی تھے‘ جنہیں مکمل ادراک ہو چکا تھا کہ محمد علی جناح کی زیر قیادت برصغیر کے مسلمانوں کی منظم تحریک سے ہی ان کیلئے الگ وطن کے حصول کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے جبکہ اقبال بذاتِ خود برصغیر کے مسلمانوں کے مسلمہ لیڈر تھے جو اپنی قومی اور ملی شاعری کے ذریعے بھی انکے جذبات متحرک رکھتے تھے اس لئے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کو اقبال اور قائداعظم کی قیادت میسر نہ ہوتی تو ان کیلئے ایک الگ مملکت کی کبھی سوچ پیدا ہوتی‘ نہ اسکا حصول ممکن ہوتا۔ قائداعظم خود بھی علامہ اقبال کی قائدانہ صلاحیتوں کے قائل تھے‘ جنہوں نے انکے انتقال پر تعزیتی بیان میں اعتراف کیا کہ ان کیلئے اقبال ایک رہنماء بھی تھے‘ دوست بھی اور فلسفی بھی تھے‘ جو کسی ایک لمحہ کیلئے بھی اپنے عزم میں متزلزل نہ ہوئے اور چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔
بانیانِ پاکستان اقبال و قائد نے تو اپنی بے لوث‘ بے پایاں اور اتحادِ ملّی کے جذبے سے معمور جدوجہد کے نتیجہ میں اسلامیانِ برصغیر کیلئے ایک الگ ارضِ وطن کا خواب حقیقت بنا دیا مگر بدقسمتی سے انکی جانشینی کے دعویدار مسلم لیگی قائدین سے نہ آزاد و خودمختار ملک اور مملکت کو سنبھالا جا سکا اور نہ ان سے اتحاد و ملت کی کوئی تدبیر بن پائی چنانچہ جس مسلم لیگ اور اسکے قائدین کو ملک خداداد کی ترقی و استحکام کی ضمانت بننا چاہیے تھا‘ انکی عاقبت نااندیشیوں سے آزاد اور خود مختار مملکت میں بھی مسلمانوں کی اقتصادی حالت بہتر ہو پائی‘ نہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے وہ مقاصد پورے ہوئے جن کی تکمیل کیلئے مسلمانوں کے الگ خطہ کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ قائداعظم کے انتقال کے بعد اگر مسلم لیگی قائدین فہم و تدبر سے کام لیتے‘ پارٹی کے جھنڈے تلے یکسو اور متحد رہتے اور بانیانِ پاکستان قائد و اقبال کے وضع کردہ اصولوں کو حرزِ جاں بنائے رکھتے تو اسلامیانِ پاکستان کیلئے اپنی خوشی‘ خوشحالی اور جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے تصور والی طمانیت کا سفر کبھی کھوٹا نہ ہوتا۔ بدقسمتی سے طالع آزما جرنیلوں نے جمہوریت کا تصور پختہ ہونے دیا اور نہ ہی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو پنپنے دیا جبکہ مسلم لیگی قیادتوں نے بھی حصوں بخروں میں منقسم ہو کر خالص مسلم لیگی حکومت کی تشکیل بھی ممکن نہ ہونے دی اور دو قومی نظریے پر یقین نہ رکھنے والے عناصر کو بھی کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔آج کے پاکستان کا قائد و اقبال کے تصورات و فرمودات کی روشنی میں قیام پاکستان کے مقاصد کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں سوائے مایوسی کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔
اقبال اور قائد اپنے عزم و ارادے میں راسخ تھے‘ آج اپنی پارٹی کو اقبال و قائد کی مسلم لیگ کہنے والوں کے ہاتھ میں زمام اقتدار ہے مگر انکے ارادے متزلزل‘ پالیسیوں میں عدم یکسانیت‘ عوامی مسائل حل کرنے میں عدم دلچسپی اور کشمیر ایسے اہم مسئلے پر قائداعظم جیسے عزم کا فقدان ہے۔ سعودی عرب کے یمن میں فضائی اپریشن کے بعد پاکستان کے کردار کا تعین کرنے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پارلیمنٹ ہماری رہنمائی کرے۔ پارلیمنٹ نے غیرجانبدار رہنے کی قرارداد منظور کی‘ اس پر حکومتی پارٹی اور پارلیمنٹ نے ہر طبقہ کی طرف سے دادتحسین وصول کی مگر عرب ممالک کے دبائو کا حکمران پارٹی مقابلہ نہ کر سکی۔
خود کو قائداعظم کا جاں نشین قرار دینے والی پارٹی کی حکومت کے دوران گزشتہ حکومت کے مقابلے میں گیس اور بجلی کی زیادہ قلت ہے۔ وژن کا یہ حال ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات میں ایک سال ضائع کر دیا جن کی گردن پر پانچ ہزار فوج کے سپوتوں اور 50 ہزار سے زائد بے گناہ پاکستانیوں کا خون ہے۔ پھر یہ دہشت گرد پاکستان کے آئین‘ قانون اور ریاستی رٹ کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ سانحہ پشاور کے بعد فوج نے اپریشن کرکے ان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اب کم ازکم دہشت گردی کے خاتمے کیلئے حکومت فوج اور قوم ایک پیج پر ہے۔ یہاں حکومت کے اقدامات کو بھی سراہا جانا چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے فوج کو آئین میں ترمیم سمیت اپریشن میں کامیابی کیلئے جو درکار ہے ممکنہ حد تک فراہم کررہی ہے۔
حکومت کے معاشی منیجرز دعویدار ہیں کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے متجاوز ہو چکے ہیں۔ خزانہ بھرنے سے زیادہ اہم عوامی زندگیوں کو آسان بنانا ہے۔ اگر آپ عالمی منڈی سے سستا تیل خرید کر خزانہ بھرنے کیلئے عوام کو عالمی منڈی کے مطابق ریلیف نہیں دینگے‘ تو عوام کو ایسے خزانوں سے کیا غرض ہو سکتی ہے۔
گزشتہ روز چین کے صدر شی چن پنگ پاکستان کے دورے پرآچکے ہیں‘ وہ آج عین اقبال ڈے کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے۔ علامہ اقبال نے ربع صدی چینیوں کے بارے میں پیشگوئی کی تھی…؎
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
چینیوں کو کبھی نشئی قوم کا طعنہ دیا جاتا تھا۔ ایک دور تھا کہ پاکستان چین کی مدد کرتا تھا آج چین پاکستان جیسے ممالک کیلئے اپنی کامیاب پالیسیوں کے باعث رول ماڈل ہے۔ وہ پاکستان میں دس سال میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ یہ بہت ہی بڑی رقم ہے۔ اتنی بڑی سرمایہ کاری پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہورہی ہے۔ اگر ایک ایک پائی دیانتداری سے استعمال ہوئی تو یقیناً پاکستان کی تقدیر بدل جائیگی۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں‘ فقدان صرف اور صرف لیڈرشپ کا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی لیڈرشپ کے سامنے آج خود کو اہل اور قابل ثابت کرنے کا بہترین موقع ہے۔ آج یومِ اقبال پر پاکستان کے استحکام و بقاء کی دعائوں کے ساتھ ساتھ ہمیں اسکو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کرنے کا عزم بھی کرنا ہوگا۔ گراں خواب چینی ایسا سنبھلے کہ پوری دنیا کی معیشت پر تسلط حاصل کرلیا۔ ہماری لیڈر شپ یقیناً خوابیدہ نہیں ہے‘ اسے محض اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی جس دن ایسا ہو گیا‘ ہم بھی ستاروں پر کمند ڈال سکیں گے۔ پاکستان خطے کا مضبوط‘ طاقتور‘ خوشحال ملک اور ایشیئن ٹائیگر ہوگا۔