متحدہ سنگین الزامات کی زد میں‘ انصاف کے تقاضے ہرصورت پورے کئے جائیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
متحدہ سنگین الزامات کی زد میں‘ انصاف کے تقاضے ہرصورت پورے کئے جائیں

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کی صورتحال سے متعلق برطانوی ہائی کمشنر سے بات کی‘ عمران فاروق قتل کیس کی پیروی کررہے ہیں اور تعاون بھی جاری ہے اور کیس میں پیشرفت بھی ہو رہی ہے۔ چاہتے ہیں کہ عمران فاروق کے قاتلوں کو سزا ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران فاروق قتل کیس کو سیاسی جوڑ توڑ کا حصہ نہ بنایا جائے۔ برطانوی حکام کو اب تک باضابطہ کوئی درخواست نہیں دی۔ صولت مرزا کی پھانسی روکنے سے متعلق چودھری نثار نے کہا کہ صولت مرزا ایم ڈی کے ای ایس سی سمیت سنگین جرائم میں ملوث ہے۔ صولت مرزا کی پھانسی بلوچستان حکومت کی درخواست پر خرابی صحت کی بناء پر روکی گئی۔ دریں اثناء سزائے موت کے مجرم صولت مرزا نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میں ایم کیو ایم کا کارکن تھا، کام کروا کر مجھے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا گیا۔گورنر سندھ کے ذریعے مجرموں کو تحفظ دلایا جاتا ہے۔ بابر غوری کے گھر پر ہم چار لوگوں میں سے راشد اختر، اطہر اور اسد کو بلایا الطاف حسین نے بابر غوری کے ذریعے ہدایت دی کہ کے ای ایس سی کے ایم ڈی شاہد حامد کو مارنا ہے۔ پاکستان کے مقتدر حلقے مجھ سے پوچھیں میں بتانا چاہتا ہوں۔ جو کچھ میرے پاس ہے انہیں سونپنا چاہتا ہوں جن پر عمل کر کے وہ کراچی میں امن لا سکیں۔ متحدہ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ صولت مرزا کا بیان ایجنسیوں کی طرف سے دلایا گیا ہے۔ اس سے کبھی نہیں ملا، اسکی ساری باتیں جھوٹ ہیں۔  
عروس البلاد کراچی 1985ء سے بدامنی کے الائو میں جل رہا ہے۔ بدامنی کے شعلے کبھی پوری شدت سے دہکتے ہیں اور کبھی انکی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ ایک دو مرتبہ بے رحم اپریشنز کے ذریعے بدامنی کی آگ سرد بھی پڑتی دیکھی گئی مگر سیاسی مصلحتوں نے اس آگ کو پھر بھڑکا دیا۔ کراچی کا امن 1985ء میں لسانی بنیاد پر شروع ہونیوالے فسادات سے دائو پر لگا جس نے ہر گزرتے دن کے ساتھ بھیانک سے بھیانک شکل اختیار کرلی۔ نوبت یہاں تک آپہنچی کہ سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ کراچی کے امن کو برباد کرنے میں متحدہ قومی موومنٹ‘ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے جنگجو ونگز کا ہاتھ ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ ونگز ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ جن دنوں سپریم کورٹ نے یہ سب کچھ کیا‘ ان دنوں سندھ میں یہ تینوں پارٹیاں حکومت کا حصہ تھیں اور تینوں نے سپریم کورٹ کی ہدایت کی پروا نہیں کی۔ تاہم مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء فاروق ستار کے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کے مطالبے پر ایک بڑے اپریشن کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ دور تھا جب کراچی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مبینہ کارروائیاں تیز ہو گئی تھیں۔ اس تنظیم کی طرف سے متحدہ کے رہنمائوں کو بھی بھتے کی ادائیگی کی پرچیاں مل رہی تھیں‘ جو خود مبینہ طور پر اس کام میں اپنی مثال آپ رہی ہے۔
مرکزی اور سندھ کی صوبائی حکومت نے کراچی کے امن کی بحالی کی ذمہ داری رینجرز اور پولیس کو سونپی اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو اس اپریشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔مگر ڈیڑھ سال تک اپریشن کے خاطرخواہ نتائج سامنے نہ آسکے۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اگر اضافہ نہیں ہوا تو کمی بھی نہیں ہوئی۔ سکیورٹی اداروں نے غیرجانبدار اپریشن کیلئے جو قواعد و ضوابط طے کئے‘ ان پر سندھ حکومت کاربند نہ رہی۔ پولیس افسروں کے سیاسی بنیادوں پر تبادلے کئے جاتے رہے۔ اس سے پہلے کہ کراچی اپریشن مکمل طور پر سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو کر رہ جاتا‘ کراچی میں اندھیر نگری کا منظر چھایا رہتا اور شہری درجنوں کے حساب سے روزانہ کی بنیاد پر مرتے رہتے اور فوج کی سبکی بھی ہوتی‘ فوج نے کراچی کا امن بحال کرانے کیلئے معاملات مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لئے جس پر مسلم لیگ (ن) کی مرکزی اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو اعتماد میں لیا گیا‘ دونوں حکومتیں یہاں اب رینجرز سے تعاون کررہی ہیں‘ بے لاگ اور غیرجانبدارانہ اپریشن کیلئے اسکے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا۔
متحدہ کی مخالف جماعتیں‘ اے این پی‘ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اسے دہشت گرد جماعت قرار دیتی رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اپنے مفادات کے پیش نظر متحدہ کو کبھی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے اور کبھی غدار کے ٹائٹل سے نوازتی رہی ہے۔ دونوں پارٹیاں نوے کی دہائی میں متحدہ کیخلاف ایک ایک بار اپریشن بھی کرچکی ہیںاور کراچی کے امن کی تباہی کا متحدہ کو ذمہ دار قرار دیتی رہی ہیں۔ متحدہ کیخلاف اپریشن سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو کر ادھورے رہ گئے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اپریشنز میں حصہ لینے والے سرکاری افسروں اور اہلکاروں کو چن چن کر قتل کردیا گیا۔ ان میں سے ایک کے ای ایس سی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد بھی تھے‘ جو اپریشن کے دوران سیکرٹری داخلہ سندھ تھے۔ صولت مرزا پر انکے قتل کا الزام لگا‘ وہ گرفتار ہوئے اور ان کو سزائے موت سنا دی گئی جس پر گزشتہ روز اسکے قبیح اقدام کے 16 سال بعد عمل ہونا تھا کہ اچانک چند گھنٹے قبل 72 گھنٹے کیلئے عمل روک دیا گیا۔ ساتھ ہی اسکی ویڈیو بھی میڈیا پر آگئی جس میں صولت مرزا نے کراچی کے امن کی تباہی کا ذمہ دار متحدہ قومی موومنٹ کو قرار دیا ہے۔ صولت نے جو کہہ دیا اور جن لوگوں کو قاتل اور بھتہ خور قرار دیا‘ اس پر انکی طرف سے خاتوش بیٹھے رہنا اور صولت مرزا کو حق اور سچ کا علمبردار قرار دینا ممکن نہیں تھا۔اس پر متحدہ کی طرف سے تردید آگئی ہے مگر اب حالات متحدہ کی حمایت میں جاتے دکھائی نہیں دیتے۔ کل تک متحدہ صولت مرزا کی ساتھی تھی‘ اسے کراچی سے مچھ جیل منتقل کیا گیا تو متحدہ کی طرف سے احتجاج بھی ریکارڈ پر ہے۔ اب متحدہ اس سے یکسر لاتعلقی کا اظہار کررہی ہے۔ عمیرصدیقی نے جو اعترافات کئے‘ اسکے بعد اس سے لاتعلقی ظاہر کی گئی اور الطاف حسین نے کہا کہ اسے پھانسی دے دی جائے۔ ابھی ایسے اعترافات  اور انکشافات کرنیوالوں کی لائن لگی نظر آئیگی جن کو نائن زیرو سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں عامرخان بھی شامل ہیں۔ متحدہ کو عمران فاروق قتل کیس میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ وہ انکے قاتلوں کو سزا دلانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ ثبوت انہوں نے برطانوی ہائی کمشنر کے ساتھ شیئر کئے ہیں۔ عمران فاروق ایک پاکستانی تھے‘ وہ برطانیہ میں قتل ہوئے‘ اس لئے پاکستان کو انکے قاتلوں تک پہنچنے اور ان کو سزا دلانے سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔
صولت مرزا کی پھانسی یقیناً متحدہ کیخلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت اکٹھے کرنے کیلئے ہی مؤخر کی گئی ہے۔ اس پر متحدہ کی قیادت کی فرسٹریشن سمجھ میں آتی ہے۔ الطاف حسین کیخلاف رینجرز کے ترجمان کرنل طاہر کی طرف سے دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کرادیا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے تو گورنر سندھ عشرت المعباد کو برطرف کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔ معاملہ یقیناً بڑا حساس ہے اسکے براہ راست اثرات کراچی کی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ بلاشبہ سکیورٹی اداروں کو کراچی کے امن سے گہری دلچسپی ہے‘ وہ ہر صورت کراچی کی روشنیاں لوٹانے کیلئے کوشاں ہیں مگر انکے کسی ایکشن سے انتقام کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہیے۔ صولت مرزا اور عمیر صدیقی جیسے لوگوں کے الزامات نہایت سنگین ہیں‘ انکی مکمل اور غیرجانبداری سے تحقیقات ہونی چاہیے۔ الطاف‘ بابر غوری اور متحدہ کے دیگر قائدین پر جو بھی الزامات ہیں‘ اس کیلئے ان لوگوں کو اپنی صفائی کا پورا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ اگر یہ واقعی مجرم قرار پاتے ہیں تو منطقی انجام تک پہنچانے میں گریز نہ کیا جائے۔ انصاف کے تقاضے ہرصورت پورے کئے جائیں‘ ویسے یہ امر بھی حیران کن اور خوش کن ہے کہ نائن زیرو پر چھاپے کے بعد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔