شہریوں کے فون ٹیپ کرنے کی کس قانون نے اجازت دی ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
شہریوں کے فون ٹیپ کرنے کی کس قانون نے اجازت دی ہے

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے فون ٹیپ کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ روز استفسار کیا ہے کہ فوج اور سول ادارے کس قانون اور اتھارٹی کے تحت فون ٹیپ کرتے ہیں۔ فاضل عدالت نے ریمارکس دئیے کہ بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت گرانے میں بھی فون ٹیپنگ کی بات ہوئی تھی۔ عدالت نے ہدائت کی کہ اس سلسلہ میں آئی ایس آئی اور آئی بی سے رابطہ کرکے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی جائے۔
ملک کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کی پرائیویسی میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہونے دینا بھی آئینی تقاضے کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے مگر بدقسمتی سے بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں بالخصوص انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے باقاعدہ سیاسی ونگ قائم کرکے لوگوں کی نجی زندگیوں سے متعلق معاملات کا بھی کھوج لگانا شروع کر دیاتھا اور اس مقصد کیلئے ٹیلی فون بگنگ کے خصوصی آلات بھی حاصل کر لئے گئے جبکہ خود بھٹو مرحوم بھی آئی ایس آئی کے اس سیاسی کردار کی زد میں آنے سے محفوظ نہ رہ سکے اور ان کے بیڈ روم تک کے فون ٹیپ ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔ اس سے ریاست کے مفادات پورے ہوتے ہیں یا نہیں مگر متعلقہ لوگوں کی زندگیاں ضرور اجیرن ہوجاتی ہیں۔ 20 سال قبل تحریک استقلال کے سربراہ ائر مارشل (ر) اصغر خاں نے اسی بنا پر ایجنسیوں کے سیاسی کردار کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو اس کیس میں بھی لوگوں کے فون ٹیپ کرنے کے معاملہ کو شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کے مترادف قرار دے کر سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی اور آئی بی کا یہ کردار ختم کرنے کی ہدائت کی جس کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں بیان داخل کرایا گیا کہ آئی ایس آئی کا سیاسی سیل ختم کر دیا گیا ہے۔ اسکے باوجود سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے کیس میں بھی اعلیٰ عدالت کے ججوں سمیت متعدد شخصیات کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کی صدائے بازگشت سنائی دیتی رہی چنانچہ اس معاملہ کا چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اپنے ازخود اختیارات کے تحت دوبارہ نوٹس لیا ہے۔ اگر کوئی ادارہ اعلیٰ عدلیہ کے بار بار نوٹس لینے اور احکام صادر کرنے کے باوجود خود سری کی مثال بنا نظر آتا ہے تو یہ عدالتی عملداری کے ساتھ ساتھ حکومتی رٹ کا بھی سوال ہے اس لئے حکومت کو اصغر خاں کیس کے فیصلہ کی روشنی میں آئی ایس آئی اور دوسری ایجنسیوں کو شہریوں کے فون ٹیپ کرنے سے سختی سے روکنا چاہئے کیونکہ ایجنسیوں کا ایسا کردار ہی جمہوری حکومتوں کو کمزور کرنے کی سازشوں میں معاون بنتا ہے۔