قومی اسمبلی میں ارکان کی لڑائی

ایڈیٹر  |  اداریہ
قومی اسمبلی میں ارکان کی لڑائی

وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی اور رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے مابین گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جھڑپ ہوئی۔ اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر دونوں نے آستینیں چڑھا لیں اور ایک دوسرے کو للکارتے رہے۔
قومی اسمبلی عوام کا نمائندہ ایک مہذب فورم ہے جہاں پر عوام اپنے رہنمائوں کو مسائل کے حل کیلئے بھیجتے ہیں لیکن عوامی نمائندے وہاں بیٹھ کر اگر لڑائی کریں گے اور پھر اس لڑائی کے بھی پیسے وصول کرینگے تو عوام کو اس کا کیا فائدہ ہو گا۔ ارکان اسمبلی اپنی لڑائیاں اسمبلی فورم پر لڑنے کی بجائے اسمبلی سے باہر لڑیں۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے الطاف حسین بارے گزشتہ روز والے بیان پر ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی ساجد علی نے کہا کہ سعد رفیق کے ہوتے مسلم لیگ (ن) کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ یہ باتیں ارکان اسمبلی اجلاس کے باہر بھی کر سکتے ہیں۔ جمشید دستی ایم کیو ایم کی حمایت میں آستینیں چڑھا کر آگے بڑھے تو عابد شیر علی بھی روٹی حلال کرنے کیلئے آگے بڑھے۔ یہ بچگانہ حرکتیں تو ارکان اسمبلی کو زیب نہیں دیتیں۔ سندھ اسمبلی میں بھی گلو بٹ پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں جھڑپ ہوئی۔ عوام سیاستدانوں کو لڑائی جھگڑے کیلئے اسمبلی نہیں بھیجتے لہٰذا ارکان اسمبلی کو اگر کسی کے اعتراض کا جواب دینا ہے تو وہ بھی مہذب انداز میں دینا چاہئے۔ آستینیں چڑھا کر ایک دوسرے کو للکارنا ارکان اسمبلی کے شایان شان نہیں اس لئے وہ اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔