دہشتگردوں پر آخری ضرب کی تیاری

ایڈیٹر  |  اداریہ
دہشتگردوں پر آخری ضرب کی تیاری

 شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج نے ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ افغانستان کیساتھ سرحد پر شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی کیلئے ٹینکوں اور جیٹ طیاروں کے ساتھ بڑی تعداد میں فوجی تعینات کر دئیے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی کے تحصیل ماموند کے سرحدی علاقے کگہ ٹاپ ، نواٹاپ سمیت متعدد سرحدی علاقوں کا کنٹرول مکمل طورپر سنبھال لیا۔یہ علاقے دہشتگردوں کے قبضے میں تھے جہاں دس سال بعد پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہرادیا گیا۔ ماموند قبائل نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور سکیورٹی فورسز کا کنٹرول سنبھالنے پر ان علاقوں میں مقامی لوگوں نے جشن منایا ہے جبکہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میرانشاہ کے 2علاقوں میں امریکی ڈرون طیاروں نے 2حملے کئے ہیں جسکے دوران 6 دہشت گرد مارے گئے اور کئی زخمی ہو گئے۔بتایا جارہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوںکیخلاف پاک فوج کے جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران میر علی اور دیگر علاقوں میں شدت پسندوں کے 60فیصد سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیااور شدت پسندوں سے شمالی وزیرستان کا 40فیصد سے زائد علاقہ خالی کرا لیا گیا ہے۔ اب دہشتگردوں پر آخری کاری ضرب کی تیاری ہورہی ہے اس کیلئے پوری قوم کو ماموند قبائل کی طرح فوج کی پشت پر ہونا چاہیے۔حکومت اور ملک کی تمام سیاسی قیادت پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے‘دشمن کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے یہی لوازمات ہوتے ہیں۔جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے وہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتے ،بے شک ان میں پاک فوج کیساتھ بر سر پیکار لوگ ہلاک ہورہے ہیں،یہ حملے پاکستان کی خود مختاری کیخلاف ہیں۔حکومت کیطرف سے ان حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس ڈرون حملوں کے بجائے پاکستان کو ٹارگٹ سے آگاہ کرے پاکستان کے پا س ڈرون ہیں اور فعال فضائیہ بھی ہے وہ دہشتگردوں اور انکے ٹھکانوں کو آسانی اور مہارت کیساتھ نشانہ بناسکتی ہے۔