پاکستان اور بھارت کا ایک دوسرے کو منڈیوں تک بلا امتیاز رسائی دینے پر اتفاق اور اصل بھارتی عزائم …… کیا یہ جال کشمیر ایشو کو نان ایشو بنانے کیلئے پھینکا کیا گیا ہے؟

ایڈیٹر  |  اداریہ

پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کو اپنی منڈیوں تک بلا امتیاز رسائی (این ڈی ایم اے) دینے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم مزید بڑھایا جائے گا۔ اس سلسلہ میں آزادانہ تجارت کے متعلق سہولیات کیلئے اقدامات کا آئندہ ماہ فروری میں آغاز ہو گا۔ یہ معاملات گزشتہ روز نئی دہلی میں وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر کی اپنے ہم منصب بھارتی وزیر تجارت آنند شرما کے ساتھ ملاقات میں طے پائے۔ اس ملاقات کا اہتمام سارک بزنس رہنمائوں کی پانچویں کانفرنس کے موقع پر ہُوا تھا جس میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے سمیت متعدد امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے تجارتی تعلقات کو تیزی سے معمول پر لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس ملاقات میں بھارتی وزیر تجارت آنند شرما نے دورۂ پاکستان کی دعوت بھی قبول کر لی۔ اعلامیہ کے مطابق واہگہ اٹاری بارڈر پر کارگو کی سہولت اور کاروباری ویزے میں آسانی پیدا کی جائے گی اور اس بارڈر کو تجارت کیلئے 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے گا۔ خرم دستگیر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پُرامن تعلقات چاہتا ہے اور موجودہ حالات اس بات کا تقاضہ کر رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ ساتھ دیگر سارک ممالک سے بھی باہمی تجارت کے فروغ کیلئے رابطے بڑھائے جائیں۔ ان کے بقول بھارت کے ساتھ ٹرکوں کے علاوہ کنٹینرز کے ذریعے بھی تجارت ہو گی۔
اگر خطے کے پڑوسی ممالک امن و آشتی کی فضا میں باہمی تجارت کو فروغ دے کر اور ایک دوسرے کے تجربات و وسائل سے استفادہ کر کے اپنی اپنی معیشت کو مضبوط بناتے ہوئے قومی ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار ہو رہے ہوں تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس کے تناظر میں اگر اس خطے کے پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت بھی ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کو تسلیم کرتے ہوئے پُرامن بقائے باہمی کے آفاقی اصول کی بنیاد پر باہمی دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کریں اور باہمی تجارت کو فروغ دے کر اپنے اپنے عوام کے خوشحالی کے خواب شرمندۂ تعبیر کریں تو یقیناً یہ ایک مثالی صورتحال ہو سکتی ہے پاکستان کی معیشت کے استحکام میں خلوصِ نیت کے ساتھ کوئی کردار ادا کرے گا جبکہ اس کا اصل ایجنڈہ تو پاکستان کو کمزور کر کے ہڑپ کرنے کا ہے۔
 حکمران طبقات بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کے جنون میں مبتلا ہیں اور ملک کی سالمیت کے خلاف بھارتی عزائم کو بھانپ کر بھی یکطرفہ طور پر اس کی جانب دوڑے چلے جا رہے ہیں جس سے بادی النظر میں بھارت دنیا کو یہ باور کراتا نظر آ رہا ہے کہ اس کا پاکستان کے ساتھ کوئی تنازعہ ہی نہیں ہے یہی درحقیقت وہ ’’ٹریپ‘‘ ہے جس میں پاکستان کو اُلجھا کر بھارت دنیا سے کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی پر مہر تصدیق ثبت کرانا چاہتا ہے جبکہ کشمیر ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا تو بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کی بنیاد پر معیشت کی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونا تو کجا، ہماری زرخیز دھرتی کو بھارت کشمیر سے آنے والے ہمارے پانی کو روک کر ریگستان میں تبدیل کر دے گا جو اس کا بنیادی ایجنڈہ ہے۔ اس کے باوجود ہمارے حکمران بھارت کے ساتھ ویزہ فری تجارت کی خواہش رکھتے ہیں جس کا اظہار وزیراعظم میاں نواز شریف گزشتہ ماہ الحمرا لاہور کے زیر اہتمام منعقدہ عالمی ادبی ثقافتی کانفرنس میں خطاب کے دوران کر بھی چکے ہیں تو پھر بھارت کیلئے ہماری خود مختاری کو روندتے ہوئے ہماری سالمیت کے خلاف اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں کیا امر مانع ہو گا، اب تجارت کی خاطر واہگہ اٹاری بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے اور تاجروں کیلئے ویزہ کا اجرا آسان بنانے کا طے کیا گیا ہے تو یہ بھی پوچھا جائے کہ مسئلہ کشمیر پر کیا پیش رفت ہوئی ہے یا ہوسکتی ہے ؟
جہاں تک بھارت کے ساتھ تجارت کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کا معاملہ ہے اس کا اندازہ بھارت کے ساتھ اب تک ہونے والی تجارت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس تجارت میں پاکستان کو سالانہ 30، 35 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا ہے جبکہ بھارت کے ساتھ اس کی تجارت کا حجم بھارت کے مقابلے میں دس گنا کم ہے، کیا یہ ہمارے لئے شرم کا مقام نہیں کہ ایک زرعی ملک ہو کر بھی بھارتی سازش سے ہی ریگستان بننے والی اپنی زرخیز دھرتی پر اپنی سبزیاں اور اناج بھی اپنی ضرورت کے مطابق نہیں اُگا پاتے اور آلو، پیاز، ٹماٹر تک بھارت سے مہنگے داموں پر درآمد کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جب بھارت کے ساتھ اس کی منشاء کے مطابق تجارت کو فروغ دینے کی راہ اختیار کی جائے گی تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتی مصنوعات کے ہاتھوں ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری اور دیگر صنعتوں کا کیا حشر ہو گا، اس طرح جب ہماری منڈیوں تک بھارت کو آسان رسائی حاصل ہو جائے گی تو پھر ہمارے منافع خور تاجر اپنی ملکی مصنوعات کے بجائے بھارتی مصنوعات کی ہی تجارت کریں گے جبکہ ان ذاتی فائدوں کی خاطر ہی بھارت سے تجارت کی راہیں کھول کر ملکی عدم استحکام کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب ہمارے پاس برادر پڑوسی ممالک چین، ایران کے علاوہ ترکی اور برادر عرب ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کا آپشن بھی موجود ہے اور اب یورپی یونین نے ہمیں جی ایس پی پلس کا سٹیٹس دے کر ہمیں 2017ء تک بغیر ڈیوٹی کے 28 یورپی ممالک کو اپنی ٹیکسٹائل کی مصنوعات برآمد کرنے کی سہولت دے دی ہے جس سے ٹکیسٹائل انڈسٹری کو سالانہ دس کھرب روپے کا منافع حاصل ہونے کی توقع ہے تو اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانے کے اقدامات بروئے کار لانے کے بجائے ہمارے حکمرانوں کو بھارت سے ہی تجارت کو فروغ دینے کی کیوں فکر لاحق ہے جبکہ اس تجارت کی بنیاد پر ہم اپنا کشمیر کیس بھی کمزور بنا رہے ہیں۔ ہماری تجارت کو فروغ دینے کے معاملہ میں بھارتی اخلاص کا اندازہ تو اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے حکام نے کنٹرول لائن پر بھارت کیلئے تجارتی سامان لے جانے والے پاکستان کے 49 ٹرک روک کر ان پر ہیروئن کی سمگلنگ کا الزام دھر دیا ہے اور ایک ٹرک ڈرائیور کو گرفتار بھی کر لیا ہے پھر بھی ہم بھارت کے ساتھ تجارت کو فروغ دے کر اپنی معیشت کو مستحکم بنانے کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور اس سے بجلی کے حصول کی راہیں بھی اس کی منشاء کے مطابق ہموار کرتے نظر آ رہے ہیں جبکہ یہ حکومتی پالیسیاں ہمارے قومی مفادات سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتیں۔
بے شک بھارت سے تجارت اور دوستی کا شوق پورا کیا جائے مگر یہ کشمیر کے عوض ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ پہلے بھارت سے یو این قراردادوں کے مطابق کشمیر ایشو طے کرایا جائے، پھر اس کے ساتھ تجارت کی جائے بصورت دیگر بھارت سے یکطرفہ تجارت اس کے ساتھ ملک کی اصولی پالیسی کے خاتمے کا معاہدہ کرنے کے مترادف ہو گی۔