عوام کو سبسڈی دینے کیلئے آئی ایم ایف سے چھٹکارہ ضروری ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ

 سٹیٹ بنک نے کہا ہے کہ پاکستان میں 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے صارفین کو ماہانہ 400روپے سبسڈی ملتی ہے 36فیصد بجلی کے صارفین 300 یونٹ سے بھی کم بجلی استعمال کرتے ہیں بجلی صارفین کو مزید سبسڈی نہ دی تو مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے۔
 عوام نے 11مئی 2013 کو مہنگائی اور لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر موجودہ حکومت کو اقتدار سونپا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی مہنگائی کم کرنے کی بجائے اس میں جان لیوا اضافہ کردیا ہے مہنگائی میں اضافہ آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق کیا جارہا ہے۔ سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق تو حکومت نے بجلی صارفین کو مزید سبسڈی نہ دی تو مہنگائی مزید بڑھے گی جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق حکومت کی طرف سے بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کو بالکل ختم کرنا ہوگا چیئر مین ایگری فورم ڈاکٹر ابراہیم مغل کے مطابق حکومت اگر فی یونٹ ایک روپیہ قیمت کا اضافہ کرتی ہے تو قوم پر 70 ارب روپے کا بوجھ ڈال دیاجاتا ہے۔مہنگائی میں اضافے کی ایک اور وجہ کی سٹیٹ بنک نے نشاندہی کی ہے۔ وہ ہے ڈالر کی سمگلنگ ۔ڈالر سرحدی علاقوں اور ائیر پورٹس سے باہر منتقل ہورہا ہے لیکن ایف آئی اے سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی روک تھام کی جانب توجہ ہی نہیں دے رہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اگر حقیقت میں عوام کو ریلیف پہنچانے کا عزم رکھتے ہیں تو ملک کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے آزاد کروائیں ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کریں اور ڈالر کی بیرون ملک سمگلنگ روکیں۔