تمام ادارے آئین کے فریم ورک میں کام کریں

ایڈیٹر  |  اداریہ

 چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ آئین کے تحت ملک میں جمہوری نظام ہے اس میں مقننہ انتظامیہ اور عدلیہ کے تین ستونوں کا کردار وضع کیاگیا ہے۔اختیارات کی اس تکون میں عدلیہ کا کردار ہے جب بھی کوئی ریاستی ستون حد سے تجاوز کریگا تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑیگی۔
 ریاست کے ان چار اہم ستونوں میں سے ہر ایک آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرے تو کسی کو بھی ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ماضی میں قانون اور آئین کو پامال کیا گیا جس کے باعث آج تک نظام بہتر انداز میں نہیںچل سکا ۔ عدلیہ بھی نظریہ ضرورت کے تحت اس میں حصے دار بنتی رہی اب اگر عدلیہ سمیت تمام ادارے ریاست کی طرف سے متعین کردہ قوانین میں رہ کر کام کریں گے تو آئین کی بالادستی بھی قائم ہوگی اور کسی ادارے کی جانب کوئی انگلی بھی نہیںاٹھا سکے گا۔ آئین کی بالادستی کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا رہ جائیگا۔ اگر ہم ترقی کرناچاہتے ہیں توپھر سب کو آئین کے فریم ورک میں رہنا ہوگا اور اس کے مطابق اپنے اپنے معاملات چلانا ہونگے ۔ اس سے ہی آئین و قانون کی حکمرانی کا تصور پختہ ہوسکتا ہے۔