بنوں میں سکیورٹی فورسز پر حملہ اور طالبان سے مذاکرا ت کی پالیسی

ایڈیٹر  |  اداریہ

 بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے میں دھماکے سے 22 اہلکار شہید اور 30زخمی ہوگئے۔ بارودی مواد ایف سی کی جانب سے کرائے پر لی گئی نجی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کہتے ہیں طالبان مذاکرات نہ کریں تو ہمارے پاس کوئی کنجی نہیں۔
13 سال سے طالبان نے پاکستان میں عسکریت کارروائیاں شروع کررکھی ہیں اس دوران کسی بھی حکومت نے ان سے مذاکرات کے آپشن کو استعمال نہیں کیا۔اب موجودہ حکومت نے مذاکرات کے آپشن کو استعمال کیا تو وفاقی وزیر داخلہ کے بقول ڈرون حملوں نے ان مذاکرات کو سبو تاژ کردیا جبکہ اب وہ یہ حقیقت تسلیم بھی کر رہے ہیں کہ طالبان مذاکرات نہیں کرتے تو ہمارے پاس اس کا کوئی حل نہیں۔اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی حل نہیں تو پھر اپنے سکیورٹی اداروں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے انہیںسہولیات فراہم کریں اور ملک میں امن کی بحالی کا دوسرا آپشن بروئے کار لائیں۔ ہرہفتے اور اتوارکو بنوں سے فورسز کے قافلے اہل کاروں کی تعیناتی اور سامان کی ترسیل کیلئے شمالی وزیرستان لے جاتے ہیں جبکہ اس روڈ آپریشنل ڈپلائے منٹ کیلئے نجی گاڑیاں بھی کرائے پر لی جاتی ہیںاس بات کاسارے علاقے کو علم ہے کہ فورسز کی نقل و حمل کیلئے نجی گاڑیاں لی جاتی ہیں اس لئے کسی بھی گاڑی کو کرائے پر لیتے وقت اس کو چیک کرنا وہاں پر موجود عملے کی ذمہ داری بنتی ہے جس میں غفلت کی بنا ء پر22 سکیورٹی اہلکاروں کے جنازے اٹھانے پڑے جبکہ30اہلکار زخمی ہیں ۔ہم حالتِ جنگ میں ہے۔ حکومت اور فوج اس سے بخوبی آگاہ ہے لہٰذا ان حالات میں پہلے تو نجی گاڑیوں کو کرائے پر لینا ہی نہیں چاہئے اگربامر مجبوری اس کی نوبت آجائے تو پھر گاڑیوں کی چیکنگ اور کاغذات کی جانچ پڑتال خوب کرنی چاہئے۔ طالبان نے اب ایک مرتبہ پھرمذاکرات کی پیشکش کی ہے لہٰذا اس کا جائزہ لیاجائے کہ اس پیش کش میں بھی کوئی سازش تو کار فرما نہیں؟