انتخابی امیدواروں کی سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے صدر زرداری کا چیف الیکشن کمشنر کو فون امن و امان کو یقینی بنانا تو حکومت کی اپنی ذمہ داری ہے

صدر مملکت آصف علی زرداری نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ان سے انتخابی امیدواروں کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں چیف الیکشن کمشنر سے کہا ہے کہ وہ صوبائی حکومتوں سے خود رابطہ رکھیں اور صوبوں کو امن و امان کیلئے ہدایت جاری کریں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی انتظامات اور امن و امان قائم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں اور انتخابی امیدواروں پر ہونیوالے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور چیف الیکشن کمشنر کو امن و امان کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے کہا۔ دریں اثناءصدر زرداری نے نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نواب غوث بخش باروزئی سے ایوان صدر اسلام آباد میں ملاقات کے دوران انہیں ہدایت کی کہ وہ صوبہ میں آزادانہ‘ منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کیلئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائیں۔ اسی طرح صدر مملکت نے ایوان صدر میں نگران وفاقی کابینہ کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کو شفاف بنانا اور تمام جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے مساوی مواقع فراہم کرنا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلہ میں نگران حکومت سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں اور امیدواروں سے مشاورت کے ساتھ سیکورٹی پلان بنائے۔
اس وقت عام انتخابات کے انعقاد میں صرف 21 روز باقی رہ گئے ہیں مگر آج بھی مختلف حلقوں کی جانب سے انتخابات کے شیڈول کے مطابق انعقاد کے معاملہ میں شکوک و شبہات کا اظہار سامنے آرہا ہے جس کی بنیادی وجہ ملک کی روز بروز خراب ہونیوالی امن و امان کی صورتحال ہے۔ آزادانہ‘ منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کیلئے چیف الیکشن کمشنر نے اپنے منصب کا حلف اٹھانے سے بھی پہلے پوری قوم کے ساتھ عہد کررکھا ہے جبکہ صاف شفاف انتخابات کے پرامن ماحول میں انعقاد کی ذمہ داری نگران حکمرانوں کی ہے چنانچہ نگران وزیراعظم میرہزار خان کھوسو نے اس منصب پر الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنی نامزدگی کے ساتھ ہی ملک میں امن و امان کی بحالی اپنی اولین ترجیحات میں شامل کی اور یہ حقیقت ہے کہ پرامن ماحول میں صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ہی نگران سیٹ اپ کی اصل ذمہ داری ہے چنانچہ حکومتی‘ انتظامی اور ریاستی مشینری کی معاونت سے نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے انتخابات کے انعقاد تک بہرصورت امن و امان کی بہتری کی ضمانت فراہم کرنی ہے مگر بدقسمتی سے ابھی تک اس معاملہ میں عوام کو کوئی خوشخبری ملتی نظر نہیں آرہی۔ بلوچستان‘ خیبر پی کے اور کراچی میں انتخابی امیدواروں اور سیاسی شخصیات پر جس سفاکی کے ساتھ دہشت گردی کی یکے بعد دیگرے وارداتیں ہوئی ہیں‘ وہ پرامن ماحول میں انتخابات کے انعقاد کو مشکوک بنا رہی ہیں۔ حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے پہلے ہی وفاقی وزارت داخلہ کو رپورٹ پیش کی جاچکی ہے جس میں انتخابی عمل کے دوران 40 سے زائد سیاسی شخصیات اور انتخابی امیدواروں کے دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہونے کی اطلاع دی گئی ہے اور فی الحقیقت انتخابی عمل کے دوران ایسا ہو بھی رہا ہے جس کی ابتداءحیدرآباد میں ایم کیو ایم کے ایک صوبائی امیدوار کی ٹارگٹ کلنگ سے ہوئی جس کے بعد خیبر پی کے میں اے این پی کے قائدین اور انتخابی امیدواروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ خضدار بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر سردار ثناءاللہ زہری بھی اپنے قافلے پر بم حملے میں بال بال بچے‘ البتہ انکے بھائی‘ بیٹے‘ برادر نسبتی اور سکیورٹی گارڈ اس سانحہ میں شہید ہوئے۔ پشاور میں حاجی غلام احمد بلور کے انتخابی جلسے میں خودکش دھماکے کے نتیجہ میں بھی حاجی غلام احمد بلور خود تو بچ گئے مگر انکے پارٹی کارکنوں‘ صحافیوں اور پولیس اہلکاروں سمیت اس سانحہ میں 18 جانیں ضائع ہوئیں۔ پشاور میں پیپلز پارٹی کے ایک انتخابی امیدوار اور اے این پی کے ایک رہنما کے ساتھ بھی دہشت گردی کی واردات ہو چکی ہے جن کے گھروں پر حملے ہوئے جبکہ گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں حلقہ این اے 41 کے آزاد امیدوار نصیراللہ وزیر کے جلسے پر شرپسندوں نے چار راکٹ فائر کئے جس کے نتیجہ میں ایک شخص جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوگئے۔
اے این پی کی قیادت اپنے انتخابی امیدواروں اور پارٹی عہدیداروں کے ساتھ دہشت گردی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈال چکی ہے جبکہ اب صدر زرداری نے بھی انتخابی عمل کے دوران امن و امان کی بحالی کا الیکشن کمیشن کو ذمہ دار گردانا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے پاس خود تو کوئی سکیورٹی فورس نہیں جس کی مدد سے وہ صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کے علاوہ امن و امان کی بحالی کی ذمہ داری بھی ادا کر سکے۔ اگر الیکشن کمیشن کو یہ فریضہ بھی سرانجام دینا ہے تو اس کیلئے اسے حکومت کے ماتحت سکیورٹی اداروں اور افواج پاکستان کی ہی معاونت حاصل کرنا پڑیگی۔ اس طرح انتخابی عمل کے دوران قیام امن کو یقینی بنانے کی ذمہ داری براہ راست یا بالواسطہ نگران حکومت کی ہی بنتی ہے۔ جبکہ صدر مملکت کا چیف الیکشن کمشنر کو فون کرکے انہیں امن و امان کیلئے اقدامات اٹھانے کا کہنا بادی النظر میں قیام امن میں ناکامی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالنے کے مترادف نظر آتا ہے جبکہ بطور صدر مملکت انتخابی عمل کے دوران پرامن سازگار ماحول کو یقینی بنانا انکی اپنی ذمہ داری بھی بنتی ہے جس کیلئے وہ نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو موثر اقدامات اٹھانے کا پابند کر سکتے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ صدر مملکت یہی ہدایات چیف الیکشن کمشنر کے بجائے نگران وزیراعظم‘ گورنروں اور نگران وزرائے علیٰ کو جاری کرتے اور ان سے قیام امن کی یقین دہانی حاصل کرتے۔
اس وقت جبکہ دہشت گرد اور شرپسند عناصر اپنی سفاک کارروائیوں کے ذریعے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے ایجنڈے کی تکمیل کی جانب گامزن نظر آتے ہیں‘ اگر اب بھی انتخابی مہم کا ماحول سازگار نہ بنایا گیا اور خوف و ہراس کی فضا میں انتخابی مہم پایہ¿ تکمیل کو پہنچی تو ووٹرز بھی جوش و خروش کے ساتھ حق رائے دہی کے استعمال کیلئے پولنگ سٹیشنوں پر آنے سے گریز کرینگے۔ اس طرح جمہوری نظام کے تسلسل و استحکام کے معاملہ میں مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکیں گے۔ اس صورتحال میں انتخابی عمل کی تکمیل تک امن و امان کی بحالی کی ذمہ داری پاک فوج کے سپرد کرنے میں کیا مضائقہ ہے مگر نگران حکومت بوجوہ فوج کو یہ ذمہ داری تفویض کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔
اگر فوج صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے پرامن ماحول فراہم کرنے کے معاملہ میں خود حکومت اور الیکشن کمیشن کی معاونت میں آمادہ ہے جس کا آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے متعدد مواقع پر عندیہ بھی دیا جا چکا ہے تو قیام امن کیلئے ابھی سے فوج کی خدمات حاصل کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ اس صورتحال میں مناسب یہی ہے کہ حکومتی انتظامی مشینری یکسو ہو کر دہشت گردوں‘ شرپسندوں اور غیرجمہوری عناصر کے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے منصوبوں کو ناکام بنائے جس کیلئے فوج سمیت تمام سکیورٹی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جائیں اور قیام امن میں ناکامی کی ذمہ داری اک دوسرے کے سر تھوپنے سے گریز کیا جائے۔ بہرصورت حالات جو بھی ہوں‘ مقررہ شیڈول کے مطابق انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ سلطانی¿ جمہور کا تسلسل برقرار رہے اور کسی حیلے بہانے سے انتخابات ملتوی کرانے کی سازشوں میں مصروف عناصر اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔