پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کی شمولیت کا عندیہ

ایڈیٹر  |  اداریہ

 مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کرنا پڑے گا۔ سرتاج عزیز۔ کنٹرول لائن پر کشیدگی ختم کی جائے، پگواش کانفرنس۔ نواز شریف اور منموہن ملاقات کے بعد کمیٹیاں ہوم ورک مکمل کرینگی۔ پیشرفت اگلی بھارتی حکومت کرے گی۔ کانفرنس بغیر کسی اعلامیہ کے ختم ہوگئی۔ پگواش کانفرنس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے مذاکرات میں کشمیریوںکو بھی شامل کرنے پر زور دیا ہے۔ اس حوالے سے جو بالکل درست ہے کہ کشمیری ہی اس مسئلے کے اصل فریق ہیں اور انکی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ دیرپا امن کا ضامن نہیں ہوسکتا تاہم اس مسئلہ کا اصل حل یو این قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ہی مضمر ہے اس لئے سرتاج عزیز کو مسئلہ کشمیر کے جانبدار حل کیلئے یو این قراردادوں پر عملدرآمد کو فوکس کرناچاہئے۔ ایک طرف اسلام آباد میں پاکستان پگواش کانفرنس کے ذریعے کشیدگی کم کرکے تعلقات بحال کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے سیز فائر لائن پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے اور مقبوضہ کشمیر میں سانحہ شوپیاں پر احتجاج کرنے والے کشمیری رہنماﺅں اور نہتے عوام کی پکڑ دھکڑ اور ان پر ظلم و تشدد کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔ اگر بھارت واقعی مسئلہ کشمیر با مقصد مذاکرات سے حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے کشمیر میں فوجی ایکشن ختم کرکے وہاں حالات معمول پر لانا ہوں گے اور سیزفائر لائن پر ہونے والی جنگی کارروائیوں سے پرہیز کرنا ہوگا۔