مالاکنڈ سے فوج واپس بلانا صوبائی حکومت کا اختیار

ایڈیٹر  |  اداریہ

پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پی کے حکومت کو مالاکنڈ ڈویژن سے فوجی انخلا سے روکتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عجلت نہ کی جائے۔ فوج نکالنے سے قبل وفاقی وزارت داخلہ اور فوج سے مشاورت کی جائے۔ آئین کے آرٹیکل245 کے تحت کسی بھی علاقے میں حالات سازگار بنانے کے لئے فوج طلب کرنا صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔ فوج جس مقصد کے لئے بلائی جاتی ہے وہ مقصد پورا ہونے کے بعد صوبائی حکومت اسے واپس بھیج دیتی ہے۔ خیبر پی کے اور فاٹا کے کئی علاقوں میں فوج دہشت گردی کے خلاف آپریشن کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت مالاکنڈ نے شاید اس کی مزید موجودگی کو ضروری نہیں سمجھا۔ تاہم مرکزی حکومت کو اگر کوئی تحفظات تھے تو وہ خیبر پی کے حکومت سے رابطہ کر سکتی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ خیبر پی کے حکومت نے یہ فیصلہ فوج اور مرکزی حکومت سے مشورے کے بعد ہی کیا ہو۔ بہرحال یہ اختیار سیاسی حکومت کا ہے عدلیہ کی طرف سے ایسے احکامات نہ کیے جاتے تو بہتر تھا جس سے یہ تاثر ابھر سکتا ہے کہ عدلیہ حکومتی امور میں بے جا مداخلت کر رہی ہے۔