قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی آئی ایم ایف سے معاہدے پر تنقید اور حکومت کی تمام تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کی یقین دہانی ........ اپوزیشن کے اس کردار سے حکومت کو اپنی سمت درست رکھنے میں مدد ملے گی

ایڈیٹر  |  اداریہ

قومی اسمبلی کے اجلاس میں گذشتہ روز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی حمایت، سودی نظام کے خاتمہ اور سٹیل ملز کی بحالی کی قراردادیں منظور کر لی گئیں جبکہ دیر بالا میں فوجی افسران و جوانوں پر دہشت گردی کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور شہداءکو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے نئے قرض کیلئے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے کی شرائط کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ شرائط اور معاہدے سے متعلق دیگر حقائق ایوان میں پیش کرنے کا تقاضہ کیا جس پر حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو یقین دہانی کرائی گئی کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار غیر ملکی دورے سے واپسی پر معاہدے کی تفصیلات ایوان میں پیش کریں گے۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ حکومت نے مشکل ترین حالات میں اقتدار سنبھالا ہے، عوام کمر کس لیں اور پیٹ پر پتھر باندھ لیں۔ انہوں نے کہا سب کو پتہ ہے کہ قومی خزانہ خالی ہے ہم عوام سے کوئی چیز نہیں چھپائیں گے ہمیں کشکول لے کر پھرنے سے نفرت ہے مگر مجبوراً آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑا۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عارف علوی نے کہا کہ اس ایوان کو آئی ایم ایف سے معاہدے پر شدید تحفظات ہیں۔ اپوزیشن رکن ڈاکٹر عذرا افضل پیچو نے کہا کہ جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے۔ اپوزیشن رکن اسد عمر نے بھی اس امر کا تقاضہ کیا کہ ایوان کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔
جمہوریت کے فروغ و استحکام میں اپوزیشن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن منتخب فورموں پر تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے عوامی مسائل کو بھی اُجاگر کرے، قومی چیلنجز سے عہدہ برا ہونے کیلئے ٹھوس تجاویز پیش کرے اور حکومتی پالیسیوں میں موجود خامیوں کی بھی تنقید برائے تنقید سے اجتناب کرتے ہوئے درست نشاندہی کرے تو اس سے جمہوریت پر عوام کا اعتماد قائم کرنے اور اس کے ثمرات سے عوام کے مستفید ہونے کی حوصلہ افزا فضا استوار ہو سکتی ہے جو بالآخر جمہوریت کی سرخروئی پر منتج ہو گی۔ ماضی میں جرنیلی آمروں نے تو ویسے ہی جمہوریت اور سیاست کو راندہ¿ درگاہ بنا کر انہیں عوام کیلئے شجرِ ممنوعہ بنانے کی کوشش جاری رکھیں تاکہ ان کی ڈکٹیٹر شپ کا جواز نکل سکے مگر ماضی میں سول حکمرانوں اور سیاستدانوں نے بھی جمہوریت سے عوام کو متنفر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی جو کبھی جرنیلی آمریتوں کو کندھا دے کر اور کبھی سول آمریت کی فضا بنا کر جمہوریت کے ناقابلِ عمل ہونے کی بنیاد ڈالتے رہے۔ اپنی آئینی میعاد پوری کرنے والی سابقہ اسمبلی اور حکومت نے اگرچہ ملک و قوم اور عوام کو درپیش سنگین مسائل کے حل میں کوئی کارکردگی نہیں دکھائی جس کی گورننس بھی مثالی نہیں تھی اور اس وقت کے حکمرانوں سے منسوب کرپشن اور اقربا پروری کی داستانوں نے توجمہوریت کے چہرے کو داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، اس کے باوجود حکومت اور اپوزیشن کے تعاون سے یہ مثبت پیشرفت ضرور ہوئی کہ جمہوریت کے استحکام کی راہ ہموار ہو گئی جس میں یقینا اس وقت کی اپوزیشن کا نمایاں کردار رہا ہے۔ اس وقت کے اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف ملکی اور قومی مفادات کے منافی حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ ضرور بناتے تھے مگر حکومتی کمزور پالیسیوں سے فائدہ اُٹھا کر جمہوریت دشمن عناصر کو جمہوریت کے خلاف سازشوں کا جال بچھانے کا جیسے ہی موقع ملتا تو میاں نواز شریف جمہوریت کے آگے ڈھال بن جاتے۔ اسی طرح چیف جسٹس سپریم کورٹ اور آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے بھی جمہوریت کے تحفظ کا عہد نبھایا اور میاں نواز شریف نے فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے قبول کر لئے مگر حکومت کے خلاف ایسے کسی اقدام سے گریز کیا جو حکومت کے ساتھ ساتھ جمہوریت کو بھی نقصان پہنچانے پر منتج ہو سکتا ہو۔
سابقہ دور میں جمہوریت کے فروغ و استحکام کیلئے سازگار بنائی گئی فضا کے موجودہ دورِ حکومت میں مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور آج اپوزیشن جمہوریت کے تحفظ کے عہد کی پاسداری کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کا فریضہ بھی ادا کر رہی ہے ۔اس سے کم از کم یہ تو ضرور ہو گا کہ پارلیمنٹ کی اتھارٹی تسلیم ہو گی اور اس کے ماضی کے ربر سٹمپ والے تاثر کا ازالہ ہو جائے گا۔ جرنیلی آمر مشرف کی چھاپ میں ماضی کی اسمبلی تو محض ایک مہرے کا کردار ادا کرتی رہی ہے جس کی متفقہ طور پر منظور کی گئی قراردادوں کی بھی کوئی وقعت نہیں ہوتی تھی جبکہ ان منتخب فورموں پر عوام کے گھمبیر مسائل زیر بحث لانے کی تو زحمت ہی گوارا نہیں کی جاتی تھی نتیجتاً جمہوریت پر عوام کا اعتماد بھی قائم نہ ہو پایا۔
اب بھی اگرچہ عوام کے مسائل کے فوری حل کے معاملہ میں پارلیمنٹ کے فورم پر کوئی ٹھوس حکمتِ عملی طے ہوتی نظر نہیں آ رہی تاہم آج پارلیمنٹ میں اپوزیشن مثبت انداز میں اہم ملکی، قومی اور عوامی ایشوز پر ٹھوس انداز میں بات اور حکومتی پالیسیوں میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر رہی ہے اس کے پیش نظر ان منتخب فورموں پر اب یقیناعوام کی شنوائی بھی آسان ہو جائے گی۔ گذشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جہاں دہشت گردی کے ناسُور سے نجات کیلئے حکومتی اور اپوزیشن ارکان یکسو نظر آئے اور اس کیلئے پاک فوج کی حمائت میں متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی وہیں اپوزیشن ارکان نے موجودہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو بھی اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے عوامی مسائل کی روشنی میں تعمیری انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا اور اس معاہدے کی تمام تفصیلات ایوان میں پیش کرنے کا تقاضہ کیا۔ اس وقت قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی قیادت پیپلز پارٹی کے پاس ہے جس کے رہنما سابق صدر آصف علی زرداری پہلے ہی واشگاف انداز میں اعلان کر چکے ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر سیاست نہیں کریں گے اور سیاست صرف منتخب فورموں پر ہو گی۔ اس تناظر میں قومی اسمبلی کی گذشتہ روز کی کارروائی اپوزیشن کے تعمیری کردار کی عکاسی کر رہی تھی جس میں تحریک انصاف کے ارکان نے بھی اصل ایشوز پر ہی حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا چنانچہ حکومت یہ یقین دہانی کرانے پر مجبور ہو گئی کہ وزیر خزانہ ملک واپسی پر آئی ایم ایف کے معاہدے سے متعلق تمام معاملات ہاﺅس میں پیش کر دیں گے۔
آئی ایم ایف سے نئے قرض کے حصول کے معاہدے پر اگر قوم کے تحفظات ہیں تو وہ اس معاہدے کے نتیجہ میں عوام پر مسلط ہونے والی آئے روز کی مہنگائی اور بلواسطہ ٹیکسوں سے عام آدمی کے متاثر ہونے کے پس منظر میں ہی لاحق ہوئے ہیں چنانچہ گذشتہ روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے ان تحفظات کا اظہار کر کے قومی جذبات کی ترجمانی بھی کی ہے اور حکومت کو یہ تحفظات دور کرنے کی راہ بھی دکھائی ہے اب عوام محض اس حکومتی منظق پر مطمئن نہیں ہو سکتے کہ حکومت نے مشکل ترین حالات میں اقتدار سنبھالا ہے۔ ایسی مشکلات میں گھرے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے عملی اقدامات اٹھانا ہی تو حکومت کی اصل کارکردگی ہے اگر حکومت اُلٹا عوام کو یہ مشورہ دے کہ وہ کمر کس لیں اور اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیں تو حکمرانوں کی ایسی سوچ ہی جمہوریت پر عوام کا اعتماد قائم نہیں ہونے دیتی۔
دگرگوں معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے آئی ایم ایف سے نیا قرضہ حاصل کرنا یقیناً حکومت کی مجبوری تھی جبکہ آئی ایم ایف اپنے قرضے کی بروقت واپسی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کو اصلاحی اقدامات بروئے کار لانے کے مشورے دینے کا بھی مجاز ہے تاہم گڑبڑ اس وقت ہوتی ہے جب حقائق عوام سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب اگر قومی اسمبلی کے فورم پر اپوزیشن کے مثبت کردار سے آئی ایم ایف سے کئے گئے نئے معاہدے کے حوالے سے اصل حقائق اور معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے آ جائیں گی تو یقیناً اس سے حکومت کیلئے اس معاہدے کو ”جسٹیفائی“ کرنے میں بھی آسانی ہو گی جبکہ آئی ایم ایف کی تجویز کردہ ٹیکس اصلاحات پر عملدرآمد کر کے حکومت ٹیکس ادا کرنے کے قابل اصل طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لا سکتی ہے جس سے عام آدمی پر بلواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم ہو گا تو آئی ایم ایف کے معاہدے کے حوالے سے عوامی تشویش میں بھی کمی واقع ہو جائے گی۔ یہ سارے معاملات یقیناً پارلیمنٹ کے منتخب فورم پر ہی طے ہو سکتے ہیں اس لئے توقع رکھی جانی چاہئے کہ اب جہاں پارلیمنٹ کے تعمیری کردار سے عوام میں امورِ حکومت میں اپنی شمولیت کا احساس اُجاگر ہو گا وہیں پارلیمنٹ کا تشخص اور تقدس بھی بڑھے گا جو بالآخر مستحکم جمہوریت کی ضمانت بنے گا۔