چین میں اعلیٰ قیادت کی تبدیلی سے قبل کمیونسٹ پارٹی کا دورہ پاکستان اور امریکی صدارتی انتخاب خارجہ پالیسی کو متوازن بنانے کا بہترین موقع

چین میں اعلیٰ قیادت کی تبدیلی سے قبل کمیونسٹ پارٹی کا دورہ پاکستان اور امریکی صدارتی انتخاب خارجہ پالیسی کو متوازن بنانے کا بہترین موقع

صدر آصف علی زرداری نے پاکستان چین دو طرفہ تجارت‘ سرمایہ کاری اور دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے پر زور دیا اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کی آزمودہ دوستی پہلے ہی ایک جامع سٹرٹیجک شراکت داری میں بدل گئی ہے۔ انہوں نے یہ بات چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن لی چنگ چن کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات کے دوران کہی۔ صدر نے کہا کہ پاکستان چین تاریخی تعلقات جو باہمی اعتماد‘ احترام اور تعاون سے جڑے ہوئے ہیں‘ حکومتی سطح سے دونوں ممالک کے عوام کی سطح پر آگئے ہیں۔ حکومت اور عوام اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور باہمی فائدے کیلئے ان تعلقات کی مکمل استعداد کو بروئے کار لانے کے خواہشمند ہیں۔ چین ترقی پذیر ملکوں کیلئے امید کی کرن بن گیا۔ صدر کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بریفنگ میں کہا کہ لی چنگ چن نے چین کی اعلیٰ قیادت کے جذبات صدر تک پہنچاتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی سطح پر تبدیلیوں سے قطع نظر‘ پاکستان چین دوستی نہ صرف جاری رہے گی بلکہ مزید مضبوط ہو گی۔
چین قیام پاکستان کے بھی کچھ عرصہ بعد یکم اکتوبر 1949ءکو آزاد ہوا‘ پاکستان اسے تقریباً دو دہائیوں تک تعاون فراہم کرتا رہا۔ چینی قیادت اور عوام کے عزم و ارادے نے اسے معاشی اور دفاعی طاقت بنا دیا۔ آج وہ پوری دنیا کی معیشت پر حاوی اور دفاعی حوالے سے ایک مقام رکھتا ہے۔ پاکستان کا دو سپرپاورز امریکہ اور روس سے واسطہ پڑا‘ روس نے کھل کر پاکستان کی مخالفت کی اور امریکہ کے ساتھ جہاں برسوں سے اتحادی کی صورت میں ساتھ دیا‘ وہیں امریکی رویے کو پچھلے چند سالوں میں اتحادی جیسا نہیں پایا۔اسکی دوستی پاکستان کیلئے ضرورت کے مواقع پر سودمند ثابت نہیں ہوئی۔ چین اور پاکستان کے تعلقات شروع سے دوستانہ رہے‘ نہ صرف ان تعلقات میں کبھی دراڑ نہیں آئی بلکہ یہ مزید بہتر ہوتے چلے گئے‘ جن میں بدستور اور ہنوز اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے تاہم چین کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی حکومت نے گزشتہ حکومتوں کی مثبت سوچ کو مزید آگے بڑھایا ہے۔ گزشتہ چار برس میں پاکستان سے چین کیلئے اعلیٰ سطح کے 16 دورے ہوئے ہیں۔ صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف نے اتنے مختصر عرصہ میں کسی اور ملک کے دورے نہیں کئے۔ یہ دورے ایک طرف چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوسری طرف چین کے تجربات سے استفادہ کیلئے پاکستان کی گہری دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔
2005ءکا زلزلہ ہو‘ یا2010ءاور 2011ءکے سیلاب‘ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے شانہ بشانہ رہا‘ اس نے امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر پاکستان کو ان قدرتی آفات سے نکالنے میں اپنا برادرانہ کردار ادا کیا۔ اس کا پاکستان کی ترقی میں بھی اہم کردار ہے‘ زیر تعمیر ڈیمز میں چین تعاون کر رہا ہے۔ بلوچستان اور پختونخوا میں جاری کئی منصوبوں میں کام کے دوران متعدد چینی انجینئرز کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر پاک چین تعلقات کو خراب کرنے کی سازشیں کی گئیں‘ چین نے ان سازشوں کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا۔ بھارت کو امریکہ‘ روس‘ انگلینڈ‘ ہالینڈ‘ برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک سول نیوکلیئر تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کو یہ سہولت دینے پر کوئی ملک تیار نہیں‘ ایسے میں چین واحد وہ ملک ہے‘ جس نے پاکستان کو سول نیوکلیئر انرجی فراہم کرنے کی پیشکش کی اور پنجاب کے ساتھ دو ایٹمی بجلی گھروں کی فراہمی کا معاہدہ کیا۔ گوادر بندرگاہ کے عظیم تر منصوبہ نے چین کے تعاون سے تکمیل کے مراحل طے کئے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کشمیر ایشو ہے‘ جو بھارت کی ہٹ دھرمی کا شاخسانہ ہے۔ اس مسئلہ میں تو چین آج پاکستانی حکمرانوں سے بھی زیادہ کمٹڈ نظر آتا ہے۔ چین کشمیریوں کو بھارتی ویزے جاری کرنے سے انکاری ہے‘ ہم اس مسئلہ کی موجودگی کے باوجود کشمیر پر اپنے دیرینہ موقف سے گریز کی پالیسی اپناتے ہوئے بھارت کے ساتھ تجارت‘ تعلقات اور دوستی کو فروغ دے رہے ہیں‘ اب تو اسے پسندیدہ ترین ملک بھی قرار دینے پر کمربستہ ہیں۔
چین میں اگلے ماہ اعلیٰ قیادت کی تبدیلی متوقع ہے‘ چین کے باون صوبوں میں پولٹ بیورو کے انتخابات ہو چکے ہیں‘ پولٹ بیورو کے ارکان نومبر کے پہلے ہفتے میں نئے صدر اور وزیراعظم کا انتخاب کرینگے۔ اہم تبدیلیوں سے قبل چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سیاسی بیورو کے رکن لی چانگ چن کی قیادت میں پاکستان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کمیونسٹ پارٹی اپنے دوست ملک کو اعلیٰ قیادت میں تبدیلی کے حوالے سے اعتماد میں لینا چاہتی ہے۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ چین کے متوقع وزیراعظم پاکستان کے بڑے حامی ہیں‘ انکے اقتدار میں آنے سے پاکستان چین تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔ خطے کی صورتحال بھی پاک چین تعلقات کی مزید مضبوطی اور ہر سطح پر تعاون میں اضافے کی متقاضی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے درست کہا کہ پاک چین تاریخی تعلقات جو باہمی اعتماد اور تعاون سے جڑے ہوئے ہیں‘ حکومتی سطح پر دونوں ممالک کے عوام کی سطح پر آگئے ہیں۔ صدر صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ پاکستان چین دوستی پہلے ہی ایک جامع سٹرٹیجک شراکت داری میں بدل گئی ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں صدر صاحب کے اس قول پر اتفاق کرنا ممکن نہیں کیونکہ پاک چین دوستی کو سٹرٹیجک شراکت داری میں بدلنے کیلئے ہماری حکومت کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔ خصوصی طور پر موجودہ حکمرانوں کو تو اپنے مفادات کے حوالے سے ایثار کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ مشرف کے دورِ آمریت سے آج کے سلطانی جمہور کے دور میں ہماری خارجہ پالیسی کا مکمل اور یکطرفہ جھکاﺅ امریکہ کی طرف ہے۔ اس کو قبول بھی کیا جا سکتا تھا بشرطیکہ امریکہ آپ کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوتا۔ جنوبی ایشیاءکا سب سے بڑا تنازعہ کشمیر ایشو ہے۔ امریکہ نے اسے حل کرانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے سے انکار کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا مذاق اڑانے والے بھارت کا تو امریکہ کے زیر اثر اقوام متحدہ کو بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا لیکن اسکے برعکس بھارت پر امریکی نوازشات ہو رہی ہیں۔ امریکی صدر‘ وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ عہدیدار ہفتہ ہفتہ بھر بھارت کا دورہ کرتے ہیں‘ اسکے ساتھ جنگی مشقیں کی جاتیں اور روایتی و غیرروایتی ہتھیاروں بمعہ فائٹر جہازوں کی فراہمی کے معاہدے ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو امریکہ کے ایسے اقدامات پر احتجاج اور اعتراض کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ ایک طرف بھارت پر نوازشات دوسری طرف دہشت گردی کی جنگ میں صف اول کے اتحادی پاکستان پر ڈرونز سے بموں کی برسات۔ ڈرونز پر بھی محض نمائشی احتجاج ہوتا ہے‘ ایسے میں امریکہ کے ساتھ دوستانہ سے زیادہ غلامانہ تعلقات کا تاثر سامنے آتا ہے۔
پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے‘ اسکے تحفظ‘ وقار‘ سلامتی اور سالمیت کی ذمہ دار جمہوری حکومت ہے‘ یہ ذمہ داری پوری کرنے کیلئے اسے خارجہ پالیسی میں توازن لانا ہو گا۔ قیام پاکستان کے بعد ابتدائی عرصہ میں پاکستان کی سیاسی قیادت نے روس کے دورے کا اعلان کیا لیکن کسی دباﺅ پر امریکہ چلے گئے۔ جس سے آپکی پڑوسی سپرپاور ناراض ہوئی جس کا خمیازہ بھی پاکستان کو بھگتنا پڑا۔ اب روس کے ساتھ تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں‘ صدر اور آرمی چیف روس کے دورے کر چکے ہیں‘ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔ ان دوروں میں اقتصادی اور دفاعی معاہدے ہوئے جسے مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے‘ اسکے باوجود روس نے اسلحہ کے حوالے سے یہ بیان دینے سے دریغ نہیں کیا کہ ایک دوست ملک کے دشمن (پاکستان) کو اسلحہ کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ابھی کچھ کام کرنا باقی ہے۔۔ ایران ہمارا نہ صرف پڑوسی بلکہ برادر اسلامی ملک بھی ہے‘ امریکہ کی اس سے بوجوہ مخاصمت ہو سکتی ہے مگر اسے یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ڈکٹیٹ کرائے۔
اگلے ماہ چین اور امریکہ میں انتخابات ہو رہے ہیں جس کے اثرات ہمارے خطے پر بھی یقیناً پڑینگے۔ ایسے میں ہمارے حکمرانوں کو فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔ کوئی نہیں کہتا کہ امریکہ سے قطع تعلق کرلیا جائے البتہ خارجہ پالیسی میں توازن لانے کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات رکھے جائیں اور ساتھ ساتھ قومی مفادات اور خطے کے امن کے استحکام کیلئے چین روس اور ایران کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ جب پاک چین دوستی واقعی جامع سٹرٹیجک شراکت داری میں بدل گئی‘ اس دن مسئلہ کشمیر حل ہو جائیگا۔ خطے کا امن مستحکم ہو گا اور پاکستان ترقی یافتہ وخوشحال ممالک کی صف میں بھی شامل ہو جائیگا۔