رحمان ملک کا ڈرون حملوں میں ےگناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف

رحمان ملک کا ڈرون حملوں میں ےگناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی سلامتی پر حملے ہیں‘ ان حملوں میں اب تک صرف 20 فیصد دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ دیگر 80 فیصد بے گناہ اور معصوم شہری ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت نے امریکہ کو ڈرون حملوں کی قطعاً اجازت نہیں دی‘ جبکہ پاکستان کی چاروں اسمبلیوں کی جانب سے متفقہ قراردادیں منظور ہونے کے باوجود امریکہ نے ڈرون حملے نہیں روکے۔
اس وقت ڈرون حملوں کا تسلسل ہی پاکستان امریکہ تعلقات میں کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔ ڈرون حملے میں بے گناہ انسانی جانوں کا ضیاع بالخصوص بچوں اور خواتین کی ہلاکتیں بدترین جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں جس کا امریکی ڈرون حملوں کے حوالے سے اقوام متحدہ نے بھی نوٹس لے رکھا ہے اور دنیا بھر میں ہر فورم پر ان حملوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے۔ خود امریکی اور برطانوی عوام بھی ان حملوں کیخلاف سراپا احتجاج ہیں اور تین امریکی تعلیمی اداروں کی مشترکہ طور پر مرتب کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ڈرون حملوں میں زیادہ تر سویلینز کی ہلاکتیں ہوئی ہیں‘ جن میں 178 بچے بھی شامل ہیں۔ اسکے باوجود امریکہ نے اپنی سلامتی کے نام پر ڈرون حملوں کا تسلسل برقرار رکھا ہوا ہے جو درحقیقت ہماری آزادی و خودمختاری اور سلامتی پر حملے ہیں۔ اس حوالے سے رحمان ملک نے ڈرون حملے روکنے کے معاملہ میں جس بے چارگی کا اظہار کیا ہے‘ وہ ایٹمی طاقت کے حامل کسی آزاد اور خودمختار ملک کی حکومت کے شایان شان نہیں۔ اصولی طور پر تو ہماری پارلیمنٹ کی جانب سے ڈرون حملوں کیخلاف متفقہ قرارداد منظور ہونے کے ساتھ ہی ڈرون حملوں کا سلسلہ روک دیا جانا چاہیے تھا۔ مگر امریکہ ہماری پارلیمنٹ کی قراردادیں تو کجا‘ کسی عالمی دباﺅ کو بھی خاطر میں نہیں لارہا اور گزشتہ ہفتے اس نے شمالی وزیرستان کے علاقوں میں مسلسل دو روز تک تابڑ توڑ ڈرون حملے کئے۔ اگر واشنگٹن انتظامیہ کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ ڈرون حملوں سے دہشت گردی رکنے کے بجائے بڑھ رہی ہے اور عوام میں بھی ان حملوں کے باعث امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈرون حملوں کا برقرار رہنا ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کیلئے بہرصورت لمحہ فکریہ ہے۔