تاپی پراجیکٹ توانائی کے بحران کا حل نہیں!

تاپی پراجیکٹ توانائی کے بحران کا حل نہیں!

وزیراعظم کے مشیر برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں ترکمانستان سے گیس پائپ لائن کے مجوزہ منصوبے تاپی پر کام تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات کے بعد نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی پریس ریلیز کےمطابق ترکمانستان سے افغانستان پاکستان کے ذریعے بھارت تک گیس پائپ لائن پر کنسورشیم 2014ءمیں کام شروع کر دےگا اور2018ءکے شروع میں اس سے گیس کی سپلائی متوقع ہے جبکہ بھارتی وزیر کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد اس معاملے میں پیش رفت کے قابل ہونگے۔ ترکمانستان میں دنیا کے چوتھے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں جن سے استفادہ کرنے کےلئے تاپی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ جسے روبہ عمل لانے کےلئے کم از کم چار سال کی مدت درکار ہے جبکہ پاکستان کو آج توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اوربجلی و گیس کی قلت کے باعث ایک طرف معیشت کی حالت دگرگوں ہے تو دوسری طرف عام شہریوں اور کاروباری افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان حالات میں شہریوں کو فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کےلئے تاپی جیسی طویل مدتی منصوبہ بندی اپنی جگہ ضروری ہے اور اس کےلئے شاید ترکمانستان سے گیس کی درآمد کا منصوبہ بھی مناسب ہو لیکن اس کی کامیابی بارے خدشات اور تحفظات موجود ہیں جن کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ افغانستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے تک اس منصوبے کی تکمیل ممکن نہ ہو گی اور اسے خطرات لاحق ہونگے۔کشمیر کے اصولی حل کے بغیر ”تاپی“ پراجیکٹ میں بھارت کی شرکت بھی منصوبے کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ بھارت کو باہر رکھ کر اپنے مستقبل کی ضروریات کےمطابق اس منصوبے کو ضرور قابل عمل بنائیں جبکہ فوری طور پر ایران سے گیس پائپ لائن بچھا کر توانائی کے بحران کو ختم کرنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔ اس کےلئے معاہدہ بھی ہو چکا ہے اور ایران کی طرف سے پائپ لائن کی تعمیر بھی مکمل ہے اور پاکستان میں بھی پائپ لائنز موجود ہیں۔ حکومت توانائی کے بحران کی موجودہ صورتحال اور عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ایران سے گیس اور بجلی کے معاہدے کو حتمی شکل دے اور اس پر عملدرآمد شروع کر دے۔