نجکاری میں شفافیت کی ضرورت

ایڈیٹر  |  اداریہ

حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پبلک سیکٹر میں چلنے والے 20 اداروں کو پرائیویٹائز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں۔
حکومت نے جن اداروں کی نجکاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ ادارے مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں۔ حکومت نے 68 اداروں کی نجکاری کا پروگرام بنا رکھا ہے لیکن 2014ء تک 20 اداروں کی نجکاری کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ حکومت خسارے والے اداروں سے سالانہ 500 ارب روپے نقصان برداشت کر رہی ہے۔ نجکاری کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ نجکاری صاف و شفاف ہو اس میں کسی قسم کی اقربا پروری کا دخل نہ ہو۔ تمام بڑی بڑی کمپنیوں کو نجکاری میں حصہ لینے کی دعوت دی جائے اور نجکاری بند کمرے میں نہیں بلکہ عام پبلک میں کی جائے تاکہ اپوزیشن کو کسی قسم کی نکتہ چینی کا موقع نہ ملے۔ اسکے ساتھ ساتھ محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے ‘ اس طرح ملازمین نجکاری کیخلاف ہڑتال نہیں کرینگے اور حکومت کا نجکاری کا عمل بھی بغیر کسی خلل کے پایۂ تکمیل تک پہنچ جائیگا‘ کوڑیوں کے بھائو اداروں کو مت فروخت کیا جائے ورنہ نجکاری کا سارا عمل مشکوک ہو جائیگا۔