جنگجوئوں کی پُرتشدد کارروائیاں جاری سبق سکھانے کی دھمکیوں کا اعادہ

ایڈیٹر  |  اداریہ

صوابی کے پولیس سٹیشن پرمولی کی چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو کانسٹیبل جاں بحق جبکہ چوکی کو آگ لگا دی گئی۔ دریں اثنا طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بار پھر اس دھمکی کا اعادہ کیا کہ طالبان حکومت اور سکیورٹی اداروں کو حکیم اللہ محسود کے قتل پر سبق سکھائیں گے۔ انہوں نے صوابی میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ مزید برآں ٹی ٹی پی راولپنڈی ڈویژن کا رہنما ہونے کا دعویٰ کرنیوالے احمد علی انتقامی نے اعلان کیا ہے کہ عاشور کے روز ڈپٹی کمشنر اور ڈی آئی جی راولپنڈی کو فوارہ چوک میں حملہ آوروں کی پشت پناہی کرنے پر نشانہ بنائیں گے۔
پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی اور متعدد دیگر پارٹیوں اور تنظیموں کی طرف سے ڈرون حملے میں ریاست کو مطلوب شخص کے مارے جانے کو درست قرار دیا تھا ان کے رہنمائوں کی زندگی خطرے میں ہے اسکے ساتھ ہی سکیورٹی اداروں اور حکومتی شخصیات کو بھی تھریٹ ہے مزید برآں سانحہ راولپنڈی کو لے کر بھی جنگجوئوں نے دھمکی دیدی ہے۔ حکومت ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے اور ہر ممکنہ حد تک اداروں اور دھمکیوں کی زد میں آئی شخصیات کی حفاظت کا بندوبست کرے۔ راولپنڈی میں فرقہ واریت کی آگ کو پھیلنے سے روکنے کیلئے بھی فوری اور خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ 50 علماء و مشائخ نے اس سانحہ میں ملوث افراد کو سرعام سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے یہ مطالبہ بجا ہے۔ حکومت نے تحقیقات کیلئے جسٹس مامون رشید پر مشتمل کمیشن قائم کر دیا ہے۔ اس کمیشن کے ساتھ اپنی رپورٹ مکمل کرنے کیلئے حکومت مکمل تعاون کرے۔ اسکی سفارشات کو روایتاً اخفا میں رکھنے کے بجائے عام کیا جائے اور سفارشات پر من و عن عملدرآمد کیا جائے۔