پنجاب حکومت کا مدارس کو بیرونی فنڈنگ کا اعتراف

ایڈیٹر  |  اداریہ
پنجاب حکومت کا مدارس کو  بیرونی فنڈنگ کا اعتراف

خفیہ اداروں نے پنجاب میں درجنوں مدارس کی غیر قانونی طور پر غیر ملکی فنڈنگ کا پتہ چلایا ہے۔ خفیہ ادارے نے صوبے میں 2 ہزار غیر رجسٹرڈ مدارس کی بھی شناخت کی ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے ’’دی نیشن‘‘ کو بتایا یہ فنڈنگ دفتر خارجہ کی اجازت حاصل کرنے سے مشروط طریقہ کار کے برخلاف پاکستان آ رہی ہے۔
حکومت پنجاب اور مدارس دینیہ کی انتظامیہ کے مابین مؤثر رابطہ نہ ہونے کے باعث مسائل جنم لے رہے ہیں یہ حکومتی لاپرواہی کی کھلی دلیل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو مدارس غیر قانونی طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ سے اب بھی فنڈ حاصل کر رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ خفیہ اداروں نے صوبے میں 2 ہزار غیر رجسٹرڈ مدارس کی نشاندہی کی ہے۔ حکومت یا تو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے انہیں رجسٹرڈ کرے یا پھر انہیں بند کیا جائے۔ صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے بھی اس بات کا اقرار کیا ہے کہ دفتر خارجہ کی منظوری کے بعد مدارس کو مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک کی جانب سے فنڈنگ ہو رہی ہے جبکہ بعض کو غیر قانونی طریقے سے بھی فنڈز ملتے ہیں۔ حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود صوبائی وزیر داخلہ نے ابھی تک کسی مدرسے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ وفاقی وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ سٹیٹ بنک کو بھی ہم نے فنڈنگ روکنے کا حکم دیا ہے لیکن اصل حقائق تو کچھ اور ہیں۔ ہُنڈی اور حوالے کے ساتھ ساتھ بنک کے ذریعے بھی مدارس کو غیر قانونی فنڈنگ ہو رہی ہے۔ 6500 غیر رجسٹرڈ مدارس میں سے 4500رجسٹرڈ کئے جا چکے ہیں لیکن باقی دو ہزار کے بارے میں حکومت کو کسی واضح لائحہ عمل کا اعلان کرنا ہو گا۔ گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے دھماکے میں کس قدر مواد استعمال ہوا وہ بھی غیر ملکی پیسے سے خریدا گیاہو گا۔ اگر حکومت سنجیدگی سے ان معاملات کو دیکھے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے تو مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ صرف خانہ پُری کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔