سکولوں کے تحفظ کیلئے اقوام متحدہ کا حکومت سے معاہدہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
سکولوں کے تحفظ کیلئے اقوام  متحدہ کا حکومت سے معاہدہ

پاکستان میں سکولوں کے تحفظ کے لئے اقوام متحدہ کے ایلچی گورڈن برائون اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ منصوبے کے تحت سکولوں کے گرد دیوار بنے گی، میٹل ڈی ٹیکٹرز اور گارڈز تعینات ہوں گے۔
بدقسمتی سے دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں تعلیمی اداروں پر زیادہ حملے ہوتے ہیں جس کی بنا پر طلبا خوف اور عدم تحفظ کی بنا پر دل لگا کر تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے۔ پہلے ملالہ یوسف زئی پر حملہ کرکے طلباء میں دہشت پھیلائی گئی جبکہ اس سے قبل بھی سکولوں پر حملے ہوئے اور گزشتہ سال 16 دسمبر کو پشاور سکول پر حملے نے تو پورے ملک کوہلاکر رکھ دیا تھا ان حالات میں اقوام متحدہ کا حکومت پاکستان کے ساتھ سکولز کی سکیورٹی کا معاہدہ کرنا خوش آئند ہے لیکن ماضی کی طرح سکیورٹی انتظامات صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ پسماندہ علاقوں اور چھوٹے شہروں میں قائم سکولز کی سکیورٹی کا بھی جائزہ لیا جائے۔ دیہاتوں کے اکثر سکولوں میں ابھی تک دیواریں حکومت کی مقررہ حد تک اونچی ہیں نہ ہی ان پر خاردار تاریں نصب کی گئی ہیں۔ اکثر سکولز میں تو سکیورٹی کے انتظامات بھی اساتذہ اور طلبا خود سرانجام دے رہے ہیں۔ پشاور سکول پر حملے کے بعد حکومت پاکستان نے تمام سکولز کی سکیورٹی بہتر کرنے کے اقدامات کئے تھے اور گنجان آباد علاقوں میں قائم سکولز میں کیمرے نصب کرنے کا بھی کہا گیا لیکن بیوروکریسی اور سیاسی نمائندوں نے کمیٹیاں بنانے کے نام پر اس میں بھی ایک مرتبہ رکاوٹ ڈال دی۔ حکومت پاکستان اقوام متحدہ کے ساتھ سکولوں کے تحفظ کے بارے منصوبے کو بیوروکریسی کی نذر نہ ہونے دے بلکہ بلاتفریق تمام سکولز میں سکیورٹی کے انتظامات کرکے بلا خوف تعلیم حاصل کرنے کی فضا بنائی جائے تاکہ بچے بلاخوف و خطر تعلیم حاصل کر سکیں۔