برادر ترکی اپنی ترقی و استحکام کی بدولت مسلم دنیا کی قیادت کے پوری طرح اہل ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
برادر ترکی اپنی ترقی و استحکام کی بدولت مسلم دنیا کی قیادت کے پوری طرح اہل ہے

پاکستان اور ترکی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اوردفاع و توانائی کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا عزم

پاکستان اور ترکی نے معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، مواصلات، توانائی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تجارت میں اضافہ کے لئے آزادانہ تجارت کے معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے اور اس سلسلہ میں مفاہمت کی تین یادداشتوں ، پانچ پروٹوکولز، ایک معاہدے، ایک اضافی پروٹوکول اور پاک ترکی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے ہیں۔ یہ اتفاق رائے منگل کے روز وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں پاکستان اور ترکی کی اعلیٰ سطح کی سٹرٹیجک تعاون کونسل کے اجلاس میں ہُوا۔ اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم میاں نواز شریف اور ترک وفد کی قیادت وزیراعظم ترکی احمد دائود اوگلو نے کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے کے لئے بھرپور اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم ترکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میرا پہلا گھر ہے، دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت کے سمجھوتے کو جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ باہمی تجارت کا حجم تین بلین ڈالر اور پھر دس بلین ڈالر تک لے جایا جا سکے۔ اس موقع پر میاں نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی ناگزیر پارٹنر ہیں، مشکل وقت میں دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، خطے کی ترقی اور عالمی امن میں ترکی کا اہم کردار ہے۔ وزیراعظم ترکی نے بعد ازاں جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم پاکستانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پاکستان اور ترکی عرصہ دراز سے اسلامی بھائی چارے اور پائیدار دوستی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں جن کا ہر شعبے میں ایک دوسرے کے ساتھ مثالی تعاون ہے چنانچہ برادر ترکی کی کسی بھی قیادت نے علاقائی مفادات، مسلم دنیا کے باہمی روابط اور اقوام عالم کے بقائے باہمی والے تعلقات میں پاکستان کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ ترکی اگر فلسطینیوں کی آزادی کے لئے دوٹوک مؤقف اختیار کر کے عالمی فورموں پر آواز اٹھاتا ہے اور فلسطینی عوام کا عملی ساتھ دیتا ہے تو اسی طرح کشمیری عوام کے استصواب کے حق کے لئے بھی برادر ترکی ہمیشہ بلند آہنگ نظر آتا ہے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے اپنی ماضی کی تابندہ تاریخ اور مسلم دنیا کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے موجودہ فعال کردار کے ناطے ترکی بلاشبہ مسلم دنیا کی قیادت کرنے کا اہل ہے جس کی تیز رفتار اقتصادی ترقی اور خوشحالی و پُرامن معاشرے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے استفادہ کر کے مغربی دنیا میں دین اسلام کے متشدد ہونے کے بارے میں پھیلائے جانے والے تاثر کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ ہم ان سطور میں پہلے بھی ایک مربوط اسلامک بلاک کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ اگر اسلامک بلاک کا تصور عملی قالب میں ڈھل جائے تو ترکی اس کے لئے قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ قدرتی وسائل سے مالا مال عرب دنیا اور مسلم ممالک اسلامک بلاک کے پلیٹ فارم پر باہمی تعاون سے نہ صرف خود کو جدید مغربی دنیا کے مقابل لا سکتے ہیں بلکہ دنیا میں طاقت کا بگاڑا جانے والا توازن بھی درست کر سکتے ہیں تاہم اس کے لئے مسلم قیادتوں کا ذاتی مفادات اور فروعی اختلافات کو ترک کرنا ضروری ہے۔ ترکی نے چونکہ جمہوریت اور فوجی آمریت کے ساتھ ساتھ فوج کی معاونت سے سول حکمرانی کے تجربات بھی کئے ہوئے ہیں اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بھی وہ ترجمان ہے اس لئے اس کی قیادت میں ایک مضبوط اسلامی بلاک کی شکل میں مسلم دنیا کا اقوام عالم میں بھی بلند تشخص ابھارا اور قابل قبول بنایا جا سکتا ہے۔
بلاشبہ ترکی اسلامک برادر ہڈ کے جذبے سے سرشار ہے جس سے ہمیںہر مشکل گھڑی، ہر آفت اور ہر افتاد سے عہدہ برا ہونے کے لئے تعاون حاصل کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ پاکستان میں زلزلوں اور سیلاب کی شکل میں قدرتی آفات آئیں تو برادر ترکی ہماری امداد اور متاثرین کی بحالی میں پیش پیش نظر آتا ہے جبکہ ہماری سالمیت کو کسی بیرونی جارحیت کے خطرہ میں بھی ترکی ہمارے لئے ڈھال بن کر عالمی فورموں پر ہمارے مؤقف کی ترجمانی کرتا ہے۔ اب دہشتگردی کے خاتمہ کی جنگ میں بھی ترکی ہمارے ساتھ بے لوث تعاون کر رہا ہے جبکہ پنجاب کے ساتھ تو میٹرو بس سے لے کر سالڈ ویسٹ کے منصوبہ تک ترکی کا تعاون بے مثال نظر آتا ہے۔ اسی طرح توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے بھی ترکی کی بے لوث تعاون کی پیشکشیں پاک ترک دوستی کو فروغ دیتی نظر آتی ہیں۔ چنانچہ برادر ترکی ان چیدہ چیدہ ممالک میں شامل ہے جن کی دوستی پر اندھا اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت ترکی کا جدید جمہوری نظام بھی مستحکم ہو چکا ہے جس کے طے پانے والے مراحل سے استفادہ کر کے ہماری سیاسی اور عسکری قیادتیں بھی سسٹم کے استحکام کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
ترکی کے وزیراعظم احمد دائود اوگلو کا حالیہ دورۂ پاکستان اگرچہ معمول کے شیڈول سے ہٹ کر تھا تاہم ان کے اس اچانک دورے سے بھی ہر شعبے میں پاک ترکی بے مثال تعاون کی جو فضا ہموار ہوئی وہ مستقبل کے پُرامن اور خوشحال پاکستان کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ یقیناً اسی تناظر میں گذشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی ترک وزیراعظم سے ملاقات کے دوران باور کر ایا ہے کہ ترکی سے تعلقات نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں اور میٹرو بس منصوبہ پاک ترک دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران ترک وزیراعظم نے جہاں پاکستان اور افغانستان کی نئی حکومتوں کے مابین علاقائی ترقی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے استوار ہونے والے خوشگوار تعلقات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا وہیں انہوں نے یورپ میں مساجد کو جلانے اور امریکہ میں مسلمانوں کے مارے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور غیر مسلم ممالک سے یہ امید وابستہ کی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کو روکیں گے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے لئے بھارت کی جانب سے مثبت رویے کی توقع ظاہر کی تو ترک وزیراعظم نے پاکستان کے اس مؤقف کی بھرپور تائید کی۔ انہوں نے پاکستان کو مستقبل کی ابھرتی ہوئی معیشت قرار دیا تو معیشت کی بحالی کے لئے اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ترکی ہماری اقتصادی ترقی اور استحکام کے لئے کتنا فکرمند ہے۔ اس تناظر میں گذشتہ روز پاکستان اور ترکی کے مابین طے پانے والے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے معاہدے عمل قالب میں ڈھل کر پاکستان کے لئے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں ممد و معاون ہو سکتے ہیں۔ اس خطے میں جس طرح پاک چین دوستی بے مثال ہے اسی طرح پاکستان ترکی دوستی کے بندھ بھی بہت مضبوط ہیں جو اس خطے کے بہتر، خوشحال اور پُرامن مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ہمیں پاک ترک دوستی پر فخر ہے۔