آرمی چیف کا مختصر مدت میں دوسرا دورہ افغانستان

ایڈیٹر  |  اداریہ
آرمی چیف کا مختصر مدت میں  دوسرا دورہ افغانستان

آرمی چیف کا دوسرا دورہ افغانستان۔ دونوں ممالک کا دہشت گردوں کیخلاف آپریشن جاری رکھنے کا عزم۔ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقات دونوں ملک اپنی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ملا فضل اللہ کی حوالگی پر بھی بات ہوئی۔
سانحہ پشاور کے بعد دہشت گردی کے خلاف سخت اور فوری ایکشن کے سلسلے میں جو اقدامات ہو رہے ہیں ان میں افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں اور افغانستان میں موجود دہشت گردی کا نیٹ ورک چلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کے لئے پاک آرمی کے چیف کا دو ماہ کے قلیل عرصے میں یہ افغانستان کا دوسرا دورہ ثابت کرتا ہے کہ اس بار حکومت، عوام اور مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لئے متحد اور اندرونی و بیرونی سطح پر دہشت گردوں کے تمام نیٹ ورک اور ذرائع کو ختم کرنے میں یکجان ہیں۔ خوش قسمتی سے اس وقت افغانستان میں قائم نئی جمہوری حکومت بھی پاکستان کے ساتھ خوشگوار برادرانہ تعلقات استوار کرنے میں سنجیدہ ہے۔ افغانستان خود بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں عرصہ دراز سے جانی و مالی نقصانات اٹھا رہا ہے اور اب اس جنگ میں دونوں ممالک کے یکجا ہونے سے امید ہو چلی ہے کہ وہ دہشت گردی کے اس عفریت کے خاتمے میں کامیاب ہوں گے۔ اس بار دہشت گردوں نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے جس طرح ایک ہی روز افغانستان اور پاکستان میں پولیس مراکز کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا وہ ان کی سنگدلانہ انتقامی کارروائی کا کھلا ثبوت ہے۔ اب اگر دونوں برادر اسلامی ملک مل کر ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو اس میں کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس بار آرمی چیف اور افغان حکام نے ملا فضل اللہ کیخلاف بھی کارروائی پر اتفاق کیا تاکہ دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز اور نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکے۔ یہ ایک مثبت اور اہم پیش رفت ہے۔