گیس کی بندش کیخلاف اپٹما کی دھمکی

پیر تک بجلی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو مزدوروں کے ساتھ سڑکوں پر ہونگے۔ اپٹما۔ سازش کے تحت پنجاب سے سوتیلوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اتنی لوڈشیڈنگ تو پچھلے 5 برسوں میں نہیں ہوئی مطالبات نہ مانے گئے تو زبردستی فیکٹریاں چلائیں گے۔ احسن بشیر چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی دھمکی۔ پنجاب میں کارخانوں کو ہفتہ میں تین دن گیس کی فراہمی نے صوبے کی صنعتی حالت تباہ کر دی ہے۔ 55 فیصد صنعتیں بند پڑی ہیں۔ ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اگر بجلی کی قلت سے متاثر فیکٹریوں اور صنعتی اداروں کو شامل کیا جائے تو بلاشبہ لاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ مزدوروں کے ساتھ ملز اور فیکٹری مالکان بھی سراپا احتجاج ہیں۔ مگر حکومت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ سابقہ حکومت سے کیسا گلہ وہ تو رخصت ہو چکی اب نگران حکومت کا انداز بھی ویسا ہی ہے۔ جس پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کو پیر تک کی مہلت دیتے ہوئے ملوں کی گیس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسکے ساتھ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو ملز مالکان مزدوروں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئینگے اور زبردستی کارخانے چلائیں گے۔ اس وقت پورے ملک میں گیس اور بجلی کے بحران نے سب سے زیادہ پنجاب کو متاثر کیا ہے اور پنجاب کے ملز مالکان اور مزدور ہی نہیں تمام کاروباری و گھریلو صارفین جو ایمانداری سے بل ادا کرنے کے باوجود سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ کا شکار ہو رہے ہیں بجا طور پر حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ پنجاب کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ کرتے ہوئے گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کا واضح اعلان کریگی تاکہ یہاں کاروبار حیات احسن طریقہ سے چلتا رہے‘ ورنہ صنعتی و کاروباری لوگ اگر سڑکوں پر نکل آئے تو پنجاب میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے‘ جس کی اس وقت حکومت متحمل نہیں ہو سکتی۔