مسئلہ کشمیر ‘ عملی پیشرفت کی ضرورت

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر حل کرنا لازم ہو گیا ہے ۔ پاکستان کی جمہوری حکومت نے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمےرےوں کی شرکت ضروری ہے۔ مظفر آباد مےں قانون ساز اسمبلیءاور کشمےر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ آئندہ بھی بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھاتے رہیں گے۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی حکومت پانچ سال تک عمومی طور پر خاموش رہی‘ اب صدر صاحب بولے ہیں تو بڑے زور دار طریقے سے قومی مو¿قف اور عوامی امنگوں کے عین مطابق بولے ہیں۔ اب چونکہ انتخابات سر پر ہیں‘ اس لئے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے ایسی جرا¿ت کا مظاہرہ کیا ہو۔ بہرحال انکی پارٹی کو کشمیر کے حوالے سے لاتعلقی کا ڈس کریڈٹ جاتا ہے‘ گو کہ ایک تقریر سے پانچ سالہ خاموشی کا مداوا تو نہیں ہو سکتا تاہم صدر کو کشمیر پر بے لاگ موقف اپنانے کا کریڈٹ ضرور جاتا ہے۔ کشمیر ایشو پر فوج سمیت پوری قوم یکساں مو¿قف رکھتی ہے۔ حکمرانوں نے زبانی جمع خرچ کافی کرلیا ہے‘ اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مسئلہ کے حل کی طرف پیشرفت ہو سکے‘ اس حوالے سے آخر پاکستان کی کیا حکمت عملی ہے؟ حکمران خواہشات کے اظہار کے علاوہ آخر کشمیر حل کیلئے اپنا کیا کردار ادا کرینگے ؟ کیا کشمیریوں کو اگلے 65 سال بھی بیانات سننے کے علاوہ اور کوئی ریلیف ملنے یا اپنی خواہش پوری ہونے کی امید رکھنی چاہیے یا نہیں؟