سابق حکمرانوں کی تاحیات مراعات ختم کرنا خوش آئند ہے

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو تاحیات مراعات اور سکیورٹی دینے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔ لائف ٹائم ایف آئی اے، پولیس کی سیکورٹی، پروٹوکول غیر قانونی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کے آخری دنوں میں وزیراعظم، وزیر داخلہ، سپیکر، وزیر اعلیٰ سندھ اور ارکان اسمبلی نے اپنے لئے سرکاری خزانے سے تاحیات مراعات لینے کا نوٹیفکیشن جاری کروایا۔ یوں قومی خزانے سے سالانہ کروڑوں روپے ان افراد کی سکیورٹی پر خرچ ہونے تھے۔ ریاست کی ذمہ داری عوام کا تحفظ کرنا ہے اور وہ یکساں طور پر سب کی سکیورٹی دے رہی ہے۔ سیاست دان جس وقت تک عہدوں پر برقرار رہے تب تک تو انہیں سرکاری مراعات ملتی رہیں‘لیکن تاحیات مراعات دینے کا سلسلہ اگر شروع ہو گیا تو اس طرح خزانے کا ایک بڑا حصہ سابق وزراءپر ہی خرچ ہو جائیگا۔ اس طرح تو خزانے کی بندر بانٹ شروع ہو جائیگی۔ سپریم کورٹ کا بھلا ہو کہ اس نے نوٹیفکیشن معطل کر کے تاحیات مراعات اور سکیورٹی واپس لے لی ہیں۔ اس سے یقینی طور پر خزانے کی فضول خرچی بھی نہیں ہو گی اور عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ خرچ ہونے سے بھی بچ جائیگا۔